’دوسری مرتبہ گینگ ریپ‘، متاثرہ خاتون کا سخت کارروائی کا مطالبہ

Image caption متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے اب ان پر حملہ کیا انھی لوگوں نے 2013 میں بھی انھیں گینگ ریپ کیا تھا

انڈیا کی ریاست ہریانہ میں ایک ہی گروہ کے ہاتھوں مبینہ طور پر دوسری مرتبہ گینگ ریپ ہونے والی خاتون کا کہنا ہے کہ وہ ملزمان کے خلاف ’سخت کارروائی‘ چاہتی ہیں۔

٭ریپ کا شکار ہونے والی لڑکی چل بسی

٭ ریپ کے بعد جلا کر مار ڈالنے کی کوشش

٭ دہلی ریپ کیس کا نابالغ ملزم رہا

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان پانچ افراد کو ’آزاد نہیں گھومنا چاہیے، کیونکہ وہ معاشرے کے لیے خطرہ ہیں۔‘

پولیس نے پانچ میں سے تین ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا ہے۔

21 سالہ خاتون کو انڈیا کی شمالی ریاست ہریانہ میں ایک کالج کے باہر سے اغوا کیا گیا۔ جب انھیں نشانہ بنایا گیا تو وہ انھیں ملزمان کے خلاف گینگ ریپ کے مقدمے کی پیروی کر رہی تھیں اور وہ ان ریپ کے الزام میں ضمانت پر جیل سے باہر آئے تھے۔

مبینہ طور پر ان کے ریپ میں پانچ ملزمان ملوث تھے جو انھیں مردہ سمجھ کر نازک حالت میں سڑک کے کنارے چھوڑ گئے۔ انھیں ایک راہگیر نے ہسپتال پہنچایا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ایک دلت ہوں۔ ان لوگوں نے مجھے 2013 میں گینگ ریپ کیا تھا۔ اب بھی وہ ہی ملزمان ہیں۔ میں انھیں اچھی طرح جانتی ہوں۔ میں صرف انصاف چاہتی ہوں۔ انھیں پھانسی دے دینی چاہیے۔ اس طرح کے ’پاگل کتوں‘ کو لوگوں پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ یہ صرف میرے یا کسی اور کی بیٹی کے متعلق نہیں ہے۔ یہ لوگ خطرناک ہیں۔ یہ محفوظ نہیں۔‘

Image caption گینگ ریپ پر عوام میں بہت غم و غصہ پایا جاتا ہے

انھوں نے بتایا کہ انھیں زبردستی کار کے اندر بٹھایا گیا اور پھر ان لوگوں نے ان کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کی۔

اس خاتون کا تعلق دلت برادری سے ہے اور انھیں 2013 میں بھوانی ٹاؤن میں ریپ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور احتجاج بھی ہوئے ہیں۔

ریپ کے اس واقعے کے بعد لوگ غم و غصے میں سڑکوں پر بھی نکلے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

متاثرہ خاتون کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ ان پر پہلے ہی اس بات کا دباؤ تھا کہ وہ سنہ 2013 میں پیش آنے والے ریپ کے الزامات واپس لے لیں۔ انھوں نے کہا کہ دباؤ کے بعد وہ روہتک چلے گئے تھے۔

دوسری طرف ملزمان کے خاندان والوں کا اصرار ہے کہ وہ بےقصور ہیں۔

ہسپتال سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خاتون نے کہا کہ جن پانچ افراد پر ریپ کا الزام ہے یہ وہی افراد ہیں جنھوں نے انھیں 2013 میں گینگ ریپ کیا تھا۔

اگرچہ انھوں نے اپنی صحت کی خرابی کی وجہ سے زیادہ بات نہیں کی، ان کے کزن نے کہا کہ متاثرہ خاندان کا مقامی پولیس پر اعتماد نہیں ہے۔

Image caption ایک ملزم کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وہ تو موقعۂ واردات پر موجود ہی نہیں تھا

انھوں نے کہا کہ’اس مرتبہ انھوں نے گینگ ریپ کی پہلے ہی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔ انھوں نے ثبوتوں کو ختم کیا اور کسی اور جگہ کی فٹیج دکھا کر پولیس کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی۔ مجھے نہیں معلوم کے پولیس دباؤ میں ہے کہ نہیں۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری بہن نے ان کی شناخت کر لی ہے۔ یہ سچ ہے۔ ان کو آزاد نہیں گھومنا چاہیے۔ ان کو پھانسی پر لٹکا دینا چاہیے۔

اس کیس میں پولیس پر غفلت اور جانبداری کے الزامات لگتے رہے ہیں لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ معاملہ پیچیدہ ہے اور وہ تحقیقات کر رہی ہے۔

ہریانہ کی ریاستی حکومت نےایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جسے نوے دن میں اس معاملے کی رپورٹ پیش کرنی ہے۔

اس کیس نے ایک مرتبہ پھر انڈیا میں خواتین کے حقوق اور ان کے ساتھ روا رکھ جانے والے سلوک کے بارے میں بحث چھیڑ دی ہے۔

اسی بارے میں