’حکومت سستے میں چھوٹنا چاہتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر میں آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ یا افسپا 26 سال سے نافذ ہے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے 70 لاکھ نفوس 13 روز سے فوجی محاصرے میں لاشوں کی گنتی کر رہے ہیں۔

عسکریت پسند رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی ہندمخالف احتجاجی تحریک کی شدت برقرار ہے۔

اس عرصے میں سرکاری فورسز نے مظاہرین پر گولیوں اور چھرّوں سے 40 سے زائد ابدی نیند سلا دیے گئے اور تین ہزار افراد ہسپتالوں یا گھروں میں زخموں کی ٹیس سے نڈھال ہیں۔

* کشمیر سنسر شپ پر فیس بک پر کڑی تنقید

٭کشمیر میں چھرّوں کے استعمال پر شدید تشویش

٭’کشمیر سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تمھیں کیا چاہیے‘

کرفیو، قدغنوں، ناکہ بندی اور ہڑتالوں کے بیچ حکومت عوامی اعتماد کھو رہی ہے۔ انتطامیہ بھی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔

اس صورتحال کے ردعمل میں ابھی تک حکومت ہند یا مقامی حکمراں اتحاد کی طرف سے کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔

دہلی کا لہجہ غیر رعایتی ہے اور وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نارملسی بحال کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں۔

جمعرات کو محبوبہ مفتی نے سری نگر میں کل جماعتی اجلاس طلب کیا تاہم سب سے بڑی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ پارٹی نے کہا ہے کہ’محبوبہ مفتی اعتماد کھو چکی ہیں اور حالات پر ان کا کنٹرول نہیں ہے، ایسے میں اس اجلاس کے کوئی معنی نہیں۔‘

اس اجلاس میں کانگریس پارٹی، کیمونسٹ پارٹی، عوامی اتحاد پارٹی، پی ڈی پی اور بی جے پی کے علاوہ بعض دیگر تنظیمیں بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کرفیو، قدغنوں، ناکہ بندی اور ہڑتالوں کے بیچ حکومت عوامی اعتماد کھو رہی ہے

کانگریس کے سینیئر رہنما پروفیسر سیف الدین سوز کہتے ہیں کہ معمول کے حالات کو بحال کرنا ایک چیلنج ہے اور مجھے افسوس ہے اس میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے۔ منموہن سنگھ کی حکومت میں بھارت کے وزیر رہ چکے پروفیسر سوز کے مطابق کشمیر میں فوج اور نیم فوجی اہلکاروں کو حاصل لامحدود اختیارات کو واپس لینا قیام امن کی طرف ایک قدم ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کشمیر میں آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ یا افسپا 26 سال سے نافذ ہے۔ اس قانون کے تحت کشمیر کی حکومت یا انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث کسی بھی فوجی یا نیم فوجی کا قانونی مواخذہ نہیں کر سکتی۔ ایسے درجنوں معاملات ہیں جن میں حکومت نے اعتراف کیا کہ فوج نے غلطی کی ہے لیکن قصوروار اس قانون کی آڑ میں بچ نکلے ہیں۔

پروفیسر سیف الدین سوز نے بی بی سی کو بتایا ’2010 میں بھِی عوامی تحریک چلی۔ اُس وقت کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے افسپا ختم کرنے کا مطالبہ کیا تو میں نے ان کی حمایت کی۔ میں وزیر داخلہ پی چدامبرم سے ملا۔ وہ تیار تھے، لیکن انھوں نے کہا کہ وزیر دفاع اے کے انتونی فوجی جنرلوں کی بات مانتے ہیں اور جنرل اس قانون کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

قریب دو ہفتوں سے جاری کشیدگی کے دوران فورسز کی طرف سے غیرمتناسب طاقت کا استعمال سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ پتھر کے جواب میں گولی ماری گئی یا نعرے بازی کے ردعمل میں بارہ بور والی بندوق سے مہلک چھرّے فائر کیے گئے۔ اس کی وجہ سے سو سے زائد نوجوان نابینا ہوگئے۔

وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے خود یہ اعتراف کیا ہے کہ ’کہیں کہیں طاقت کا غیرمتناسب استعمال ہوا ہے۔ ہم اس کی تہہ میں جائیں گے۔‘ لیکن افسپا کے بارے میں حکومت نے ابھی تک لب کشائی نہیں کی ہے۔

اس کے برعکس حکومت نے بدھ کو طالب علموں کے ساتھ قیام امن کا ایک’تجربہ‘ کیا۔ حکومت کے وزیرِ تعلیم اور ترجمان نعیم اختر سرینگر، بارہ مولہ، گاندربل اور بڈگام میں تعلیمی ادارے کھولنے اور تعلیمی سرگرمی بحال کرنے کا حکم صادر کیا۔

یہ ’تجربہ‘ ایسے وقت ہوا جب حکومت نے کرفیو میں کسی نرمی کا اعلان نہیں کیا اور علیحدگی پسندوں نے مزید چار روز تک ہڑتال اور مظاہروں کی اپیل کی ہے۔

صحافی اشفاق تانترے کہتے ہیں ’بارہ مولہ میں جگہ جگہ فوج نے رکاوٹیں کھڑی کی ہیں اور وہاں بڑے بینر لگے ہیں جن پر لکھا ہے کہ یہاں سے آگے جانے والوں کو گولی مار دی جائے گی۔ ایسے میں سکول کھولنے کا اعلان عقل کا دیوالیہ پن ہے۔‘

Image caption ریب دو ہفتوں سے جاری کشیدگی کے دوران فورسز کی طرف سے غیرمتناسب طاقت کا استعمال سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے

انجنیئر زبیر عزیز کہتے ہیں کہ’ہلاک ہونے والے چالیس لوگوں اور تین ہزار زخمیوں کی عمر سات سے 25 سال کے درمیان ہے۔ مطلب بیشتر سکول یا کالج طالب علم ہیں۔ بجائے اس کے کہ حکومت طالب علموں کی خیرو عافیت پوچھتی، قیام امن کے نام پر انھیں بندوقوں کے دہانوں کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔‘

اسی طرح اخبارات کی اشاعت بحال کرنے کی اجازت دے کر حکومت یہ اشارہ دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ حالات معمول پر آگئے ہیں۔ لیکن اخبارات نے پانچ روز بعد اشاعت بحال کی تو ان میں انتہائی کشیدہ حالات میں سکول کھولنے کے وزیر تعلیم کے فیصلے کی جم کر نکتہ چینی کی گئی۔

حکومت نے تجارتی انجمنوں کو بھی مدعو کیا تھا اور ان سے مدد طلب کی تھی۔ لیکن نشست کے بعد تاجروں نے رائے ’ظلم کے خلاف احتجاج‘ کا اعلان کیا اور رائے شماری کا مطالبہ کیا۔

اس سے قبل حکومت نے علیحدگی پسند جماعتوں سے تعاون کی اپیل کی تو حریت کانفرنس کے قائدین نے چار نکاتی امن فارمولہ پیش کیا۔

اس کے مطابقکشمیر کو متنازع اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے کے بعد آبادی والے علاقوں سے فوج نکالی جائے اور فوج کو حاصل قانونی اختیارات واپس لیے جائیں، سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، مظاہرین کا تعاقب بند کیا جائے، علیحدگی پسندوں کی سیاسی سرگرمیوں پر لگی قدغنوں کو ختم کیا جائے اور عالمی اداروں کے نمائیندوں کو کشمیر آنے کی اجازت دی جائے۔ اس فارمولے پر حکومت خاموش ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’ہلاک ہونے والے چالیس لوگوں اور تین ہزار زخمیوں کی عمر سات سے 25 سال کے درمیان ہے‘

حریت کانفرنس کے مطالبات کا اہم جزو فوجی قوانین کا خاتمہ ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں اس مطالبے کو جائز سمجھتی ہیں۔ لیکن بی جے پی اور پی ڈی پی کی حکومت نے ابھی تک قیام امن سے متعلق کسی پالیسی کا اعلان کیا نہ ہی کو ہی عندیہ دیا کہ کشمیریوں کی مجروح نفسیات پر کون سا مرحم لگانا ہے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ حکومت لوگوں کو مسلسل کرفیو اور مواصلاتی ذرائع پر پابندی سے تھکا دینا چاہتی ہے تاکہ مظاہروں کی شدت کم ہو۔

معاشی امور کے ماہر اعجاز ایوب کہتے ہیں ’حکومت دراصل سستے میں چُھوٹنا چاہتی ہے۔ جب حکومت پر عوام کا اعتماد ختم ہوجائے تو حکومت رعایت دیتی ہے۔ لیکن محبوبہ مفتی اور نریندر مودی کوئی رعایت دیے بغیر ہی کشمیریوں پر اپنا تسلط بحال کرنا چاہتے ہیں۔ اس پالیسی سے بھلے ہی کچھ دن کے لیے حالات میں ٹھہراؤ پیدا ہو، لیکن یہ لاوا پھر سے پھٹ پڑے گا، اور اس کی شدت بھی زیادہ ہوگی۔‘

اسی بارے میں