دلتوں پر چلنے والی لاٹھیوں کی گونج پورے ملک میں

تصویر کے کاپی رائٹ PRASHANT DAYAL
Image caption دلت اس طبقے کو کہا جاتا ہے جسے صدیوں سے ہندو معاشرے میں اتنا نیچ سمجھا جاتا تھا کہ وہ اس کے سماجی نظام میں بھی شامل نہیں تھے

جب انڈیا کی مغربی ریاست گجرات میں ’گئو ماتا‘ کی حفاظت کا بیڑا اٹھانے والے کچھ نوجوانوں نے سات دلتوں کو زد و کوب کیا تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ ان کی بے آواز لاٹھیوں کی گونج پورے ملک میں سنائی دے گی۔

جب سے ملک میں بی جے پی کی حکومت آئی ہے، جگہ جگہ ہندو نوجوانوں نے ’گئو رکشک‘ کمیٹیاں بنالی ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو گائے کو مقدس مانتے ہیں اور اکثر گائے کی حفاظت کے نام پر قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے سے پرہیز نہیں کرتے۔

گذشتہ چند مہینوں میں کہیں گئو کشی تو کہیں گائے کی سمگلنگ کے الزام میں کئی مرتبہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

لیکن اس مرتبہ نشانے پر دلت نوجوان تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ankur Jain
Image caption اب وقت بدل گیا ہے۔ دلتوں کو بھی ووٹ کا حق حاصل ہے اور اتر پردیش اور گجرات میں ان کے ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں

دلت اس طبقے کو کہا جاتا ہے جسے صدیوں سے ہندو معاشرے میں اتنا نیچ سمجھا جاتا تھا کہ وہ اس کے سماجی نظام میں بھی شامل نہیں تھے۔ ہندو معاشرہ زمانہ قدیم سے چار طبقوں میں تقسیم تھا، برہمن یا پجاری، شتریہ یا حکمراں، ویشیہ یا تاجر اور شودر یا وہ نام نہاد نیچی ذاتیں جو ان باقی تینوں طبقوں کی خدمت گزار تھیں لیکن اس کے باوجود اچھوت مانی جاتی تھیں۔

دلت وہ لوگ ہیں جنہیں شودر کے زمرے سے بھی باہر رکھا گیا۔ (انھیں اے ورن کہا جاتا تھا یعنی وہ لوگ جو طبقاتی یا ورن نظام میں شامل ہی نہیں تھے)

لیکن اب وقت بدل گیا ہے۔ دلتوں کو بھی ووٹ کا حق حاصل ہے اور اتر پردیش اور گجرات میں ان کے ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں۔

اس لیے اب سب کو ان کی فکر ہے۔ روایتاً بی جے پی اونچی ذاتوں کی پارٹی ہے لیکن گذشتہ ڈیڑھ برسوں میں اس نے دلتوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اگر وہ بی جے پی کے ساتھ آجائیں تو ملک کی سیاست پوری طرح بدل سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption گئو ماتا‘ کی حفاظت کا بیڑا اٹھانے والے کچھ نوجوانوں نے سات دلتوں کو زد و کوب کیا تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ ان کی بے آواز لاٹھیوں کی گونج پورے ملک میں سنائی دے گی

لیکن ان کی محبتوں کے دعویدار اور بھی ہیں۔ اور ان میں سب سے اوپر مایاوتی ہیں جو پانچ مرتبہ اتر پردیش کی وزیر اعلیٰ رہ چکی ہیں۔ ان کا تعلق بھی ایک دلت خاندان سے ہے اورگذشتہ دو دہائیوں میں دلتوں کا ایک بڑا حصہ مضبوطی سے ان کے ساتھ رہا ہے۔

جب دلت ان کا ساتھ چھوڑتے ہیں تو وہ ہار جاتی ہیں، لیکن سنہ 2007 میں جب انھوں نے اپنے سوشل انجینیئرنگ کے فارمولے کے تحت برہمنوں کو بھی ٹکٹ دیے تو انھیں ریاستی اسمبلی میں اپنے ہی دم پر اکثریت حاصل ہوگئی۔

اتر پردیش میں اب جلدی ہی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس لیے گجرات میں دلتوں کے ساتھ پیش آنے والے اس کیس کی گونج پورے ملک میں سنی جارہی ہے۔ ٹی وی چینلوں پر، پارلیمان میں، لکھنؤ اور احمد آباد کی سڑکوں پر، ہر جگہ انھیں حفاظت فراہم کرنے کے وعدے بھی کیے جارہے ہیں اور احتجاج اور مظاہرے بھی۔

Image caption گجرات میں دلتوں کے ساتھ پیش آنے والے اس کیس کی گونچ پورے ملک میں سنی جارہی ہے

گجرات کے واقعے سے بی جے پی کو بہت نقصان پہنچا ہے کیونکہ گائے کی حفاظت اسی کا نعرہ ہے اور گئو رکشک اس سے براہ راست یا نظریاتی طور پر وابستہ مانے جاتے ہیں۔

اسی ماحول میں بی جے پی کو ایک اور بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب اتر پردیش میں بی جے پی کے نائب صدر نے مایاوتی کو ایک جسم فروش عورت سے منسوب کیا۔ دیا شنکر سنگھ کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے لیکن بی جے پی کو جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا ہے۔

گجرات میں زد و کوب کیے جانے والے نوجوانوں کی تصویر ہر جگہ ہیں۔ دلت سڑکوں پر اتر کر اپنی غصے کا اظہار کر رہے ہیں، کئی نوجوانوں نے خود کشی کی کوشش بھی کی ہے، اور حکومت نقصان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ صدیوں سے انسانی اور سیاسی حقوق سے محروم دلت اب ایک ووٹ بینک بھی ہیں، اور یو پی کے انتخابات میں وہ پورے ملک کو ایک نیا پیغام دے سکتے ہیں۔

اسی بارے میں