’کابل میں شہریوں پر خودکش حملہ جنگی جرم ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولتِ اسلامیہ مشرقی افغانستان میں سر گرم ہے لیکن اس سے پہلے کابل میں ہونے والے کسی حملے کی ذمہ اس نے قبول نہیں کی تھی

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہزارہ برادری کے احتجاج پر خودکش حملے میں 80 افراد کی ہلاکت پر ملک میں اتوار کو سوگ منایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے خودکش حملے میں عام شہریوں پر حملے کو’ جنگی جرم قرار دیا ہے۔

خودکش حملے میں کم از کم 80 ہلاکتوں کے علاوہ 230 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

٭ کابل: ریلی پر خود کش حملے میں 80 ہلاک، 230 زخمی

* افغان فورسز اور دولتِ اسلامیہ کے درمیان جھڑپیں

خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم سے روابط والی نیوز ایجنسی اعماق کا کہنا ہے کہ دو خود کش حملہ آوروں نے کابل میں اہل تشیع کے احتجاج میں اپنے آپ کو اڑا دیا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا مقصد بظاہر ملک میں فرقہ وارانہ جھگڑا شروع کرانا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption خودکش حملے میں کم از کم 80 ہلاکتوں کے علاوہ 230 سے زیادہ افراد زخمی ہیں

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے نائب سربراہ ٹیدامچی یوکوموٹو نے ایک بیان میں حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آور نے بالخصوص بڑی تعداد میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔

ہزارہ برادری کے ہزاروں افراد بجلی کی سپلائی کے منصوبے میں مجوزہ راستے کے تعین کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

افغانستان کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ صرف ایک خودکش بمبار اپنے آپ کو اڑانے میں کامیاب رہا۔

افغان انٹیلیجنس ایجنسیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ دولت اسلامیہ کے ابو علی نامی کمانڈر نے ننگرہار صوبے سے تین حملہ آوروں کو بھیجا تھا۔

دوسری جانب افغان طالبان نے اس دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ انھوں نے نہیں کیا۔

دولتِ اسلامیہ مشرقی افغانستان میں سرگرم ہے لیکن اس سے پہلے کابل میں ہونے والے کسی حملے کی ذمہ داری اس نے قبول نہیں کی تھی۔

ہزارہ برادری اس بات پر ناراض ہیں کہ منصوبے میں جن راستوں کا انتخاب کیا گیا ہے اس کی وجہ سے ہزارہ آبادی والے علاقے نظر انداز ہو رہے ہیں۔

صدر اشرف غنی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ’پرامن مظاہرہ کرنا تمام شہریوں کا حق ہے لیکن موقع پرست دہشت گردوں نے اس کا فائدہ اٹھایا اور معصموم لوگوں کا قتل کیا جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Hakim Muzaher
Image caption کابل میں ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کے ہر طرف خون اور انسانی اعضا بکھرے ہوئے ہیں

کابل میں ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کے ہر طرف خون اور انسانی اعضا بکھرے ہوئے ہیں۔

اس احتجاج کے لیے شہر کا ایک بڑا حصہ سیل کیا گیا تھا۔

مظاہرین نے جو بینر اٹھا رکھے تھے ان پر تفریق کے خاتمے سے متعلق نعرے درج تھے۔

ان کا موقف تھا کہ ترکمانستان سے آنے والے بجلی کی لائن ہزارہ آبادی والے علاقے بامیان اور وردک صوبوں سے ہو کر نہیں گزر رہی۔

شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ افغانستان میں تیسرا بڑا گروہ ہیں۔ اور یہ زیادہ تر ملک کے وسطی حصوں میں رہتے ہیں۔

یہ لوگ مسلسل نسلی تفریق کی شکایت کرتے ہیں خصوصاً نوے کی دہائی میں طالبان حکومت کے دوران۔ ان میں سے بیشتر پاکستان، ایران اور تاجکستان نقل مکانی کر گئے تھے۔

اسی بارے میں