انڈیا میں دلتوں کی احتجاجاً خودکشیاں

انڈیا کی ریاست گجرات میں حال ہی میں گئو رکشک کی جانب سے بھرے بازار میں تشدد کرنے کے خلاف احتجاج کے طور پر 30 سے زیادہ دلت افراد نے خودکشی کی کوشش کی ہے۔

بھارت میں ہندو نوجوانوں نے’گئو رکشک‘ کمیٹیاں بنالی ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو گائے کو مقدس مانتے ہیں اور اکثر گائے کی حفاظت کے نام پر قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے سے پرہیز نہیں کرتے۔

بی بی سی ہندی کے ونیت کھرے کے مطابق نچلی ذات کی دلت برادری کا کہنا ہے کہ گئو رکشک نے چار دلت افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے خلاف وہ احتجاج کے طور پر خود کشی کر رہے ہیں۔

٭دلتوں پر چلنے والی لاٹھیوں کی گونج پورے ملک میں

٭ دلتوں کی ہندوتوا کو للکار

تاہم ماہرین نفسیات کا کا کہنا ہے کہ دلت برادری کی جانب سے اس انتہائی قدم اٹھانے کی وجہ عوامی سطح پر اعصابی تناؤ ہو سکتا ہے۔

ایک تازہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چار دلت افراد جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ چمڑے کے کارخانے میں کام کرتے تھے کو گئو رکشک کے کارکنان نے ننگا کر کے لاٹھیوں سے مارا۔ اس واقعے کے بعد دلت برادری نے مظاہرے کیے۔

جن چار افراد کو مارا پیٹا گیا وہ گائے کی چمڑی اتار رہے تھے۔

جیسے جیسے یہ ویڈیو آن لائن پر مقبول ہوتی گئی چند دلت نوجوانوں نے خود کشی کرنے کا انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

دلت گروہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک شخص نے خودکشی کی جبکہ دیگر افراد کو ان کے عزیز و اقارب نے بچا لیا۔

بچا لیے جانے والے دلت برادری میں ایک جگدیش بھائی بھی ہیں جو مزدوری کر کے 400 روپے یومیہ کماتے ہیں۔

’میں نے برادری کے لیے کیا۔ ہمیں انصاف چاہیے۔ ہمیں انصاف نہیں ملتا۔‘

جگدیش بھائی کو ان کے اہل خانہ نے فوری طور پر ہسپتال پہنچایا جہاں ان کا علاج ہو رہا ہے۔

’میرے ذہن میں وہ ویڈیو اب بھی چل رہی ہے۔ انھوں نے ہماری برادری کے افراد کو مارا۔‘

احتجاج کے طور پر خودکشی کرنے کا انتہائی قدم حالیہ عرصے میں لیا جا رہا ہے اور خاص طور پر تبت کے راہب جنھوں نے چین کے خلاف احتجاج میں خود سوزی کی کوششیں کیں۔

لیکن انڈیا میں ماہرین کا کہنا ہے کہ دلت برادری کی جانب سے یہ قدم پہلے کبھی نہیں اٹھایا گیا۔

گجرات کے شہر احمد آباد کے ماہر نفسیات ہمنشو ڈیسائی نے بی بی سی کو بتایا ’میں ان سے نہیں ملا جنھوں نے خودکشی کی کوشش کی ہے لیکن ایسا لگتا ہے جیسے یہ عوامی سطح پر اعصابی تناؤ کے باعث ہے اور اس کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اس برادری کے پاس مواقعے بہت کم ہیں۔ ان پر میڈیا کی جانب سے دی جانے والی کوریج کا بھی اثر پڑا ہے اور اس برادری پر توجہ مبذول کرائی ہے۔ صورتحال مزید خراب اس وقت ہو جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ اس برادری کے لیے کوئی ذہنی صحت کا مرکز نہیں ہے۔‘

ایک اور دلت شخص مہیش راجہ راٹھور جنھوں نے خودکشی کی کوشش کی، ان کے والد کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جو ان کے بیٹے نے کیا وہ درست نہیں تھا۔

’ہاں یہ درست ہے کہ ہمیں تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آج تک ہم گاؤں میں اونچی ذات کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے۔ لیکن خودکشی کیسے ان چیزوں کو درست کر سکتی ہے؟‘

مہیش راجہ راٹھور نے زہر پی کر خودکشی کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا ’آپ نے شاید اخباروں میں پڑھا ہو گا کہ گجرات میں دلتوں کے ساتھ کتنا خراب سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ واقعات رک نہیں رہے۔ میں نے جب ویڈیو دیکھی تو مجھے لگا کہ ایسی زندگی کا کیا فائدہ؟‘

اسی بارے میں