اترپردیش: ’15 روپے کے لیے دلت جوڑے کا قتل‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چند دن پہلے ہی کی بات گجرات میں ہند تنظیموں کے بعض لوگوں نے دلتوں کو مردہ گائے کی کھال نکالنے پر مارا پیٹا تھا جس کے خلاف احتجاج مظاہرے ہوئے تھے

انڈیا کی ریاست اترپردیش میں معمولی رقم کے تنازع پر ایک دلت جوڑے کو کلہاڑی سے وار کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔

یہ واقعہ ضلع مین پوری کے گاؤں لکھنی پور میں پیش آیا ہے جو ریاستی وزیر اعلی کے آبائی گاؤں کے قریب واقع ہے۔

٭ انڈیا میں دلتوں کی احتجاجاً خودکشیاں

٭ ’ہندوؤں کے گناہ کی وجہ سے ہم بیف کھا رہے ہیں‘

بھارتی ذرائع ابلاغ نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے ایک دوکاندار نے دلت جوڑے کو بسکٹ کے پیکٹ ادھار دیے تھے جن کی قیمت 15 روپے تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کو یہ جوڑا جب مزدوری کے لیے جا رہا تھا تو دوکاندار نے رقم کا تقاضا کیا۔

اس پر دلت شخص نے اس سے شام تک کی مہلت مانگی اور کہا کہ مزدوری ملنے پر وہ ادھار چکا دیں گے۔

تاہم دوکاندار اسی وقت رقم کے حصول پر مصر رہا اور تلخ کلامی کے بعد اس نے مکان سے کلہاڑی لا کر ان میاں بیوی پر حملہ کر دیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRASHANT DAYAL

انڈین اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کے مطابق اس واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور دلتوں کی جانب سے احتجاج بھی ہوا۔

اطلاعات کے مطابق واقعے کے بعد لکھنی پور میں بڑی تعداد میں پولیس فورس کو بھی تعینات کیا گيا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے میں انڈیا میں دلتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کے واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے اور حالیہ مہینوں میں کئی بار انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

چند دن پہلے ہی گجرات میں چار دلتوں کو مردہ گائے کی کھال اتارنے کے معاملے پر مارا پیٹا گیا تھا جس کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

انڈیا میں دلت اس طبقے کو کہا جاتا ہے جسے صدیوں سے ہندو معاشرے میں اتنا نیچ سمجھا جاتا تھا کہ وہ اس کے سماجی نظام میں بھی شامل نہیں۔

ہندو معاشرہ زمانہ قدیم سے چار طبقوں میں تقسیم ہے جو کہ برہمن یا پجاری، شتریہ یا حکمراں، ویشیہ یا تاجر اور شودر یا وہ نام نہاد نیچی ذاتیں ہیں جو ان باقی تینوں طبقوں کی خدمت گزار تھیں لیکن اس کے باوجود اچھوت مانی جاتی تھیں۔

اسی بارے میں