کشمیر میں ’آزادی مارچ‘ کی اپیل، کرفیو نافذ

تصویر کے کاپی رائٹ AP

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں جمعہ کے روز علیحدگی پسندوں نے تاریخی جامع مسجد کی طرف ’آزادی مارچ‘ کی اپیل کی تھی جسے ناکام بنانے کے لیے حکومت نے سرینگر اور دیگر بڑے قصبوں میں کرفیو نافذ کردیا اور بستیوں کی سخت ناکہ بندی کردی۔

سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق مارچ کی قیادت کے لیے گھر سے نکلے تو انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ یاسین ملک پہلے ہی جیل میں قید ہیں۔

گذشتہ دو روز کے دوران حکومت نے سرینگر اور تین دیگر قصبوں میں کرفیو اُٹھا لیا تھا لیکن جمعہ کو ’آزادی مارچ‘ کی کال کے بعد پھر سے سبھی دس اضلاع میں سخت کرفیو نافذ کردیا گیا۔ پری پیڈ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر پہلے ہی پابندی نافذ ہے۔

گرفتاری سے قبل سید علی گیلانی نے کہا ’لوگ استقامت کا مظاہرہ کریں۔ جدوجہد کو کامیاب بنانا ہے۔ تب تک یہ تحریک جاری رہے گی جب تک بھارت کشمیر کو متنازع تسلیم کرکے اس کے حل کا عمل شروع نہیں کرتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس دوران ہندوقوم پرست جماعت بی جے پی کی حمایت یافتہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کشمیری نوجوانوں کو تشدد کی ترغیب دے کر کشمیر میں عدم استحکام پیدا کررہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے جمعرات کو کہا کہ کشیدگی کے دوران سرکاری فورسز کی کارروائی سے متاثر ہوچکے نوجوانوں کی قربانی کا احترام کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آٹھ جولائی کو جنوبی کشمیر کے کوکرناگ علاقے میں ایک مکان کا محاصرہ ہوا تو انھیں فوج اور پولیس نے صرف اتنا بتایا کہ وہاں تین مسلح شدت پسند چھپے ہیں۔ ’اگر یہ پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ برہان وانی بھی وہاں ہے تو ہوسکتا ہے کہ امن کے مفاد میں ایک موقع انھیں دیا جاتا۔‘

اس بیان کی سیاسی اہمیت اپنی جگہ، لیکن مقامی پولیس نے تین ہفتوں سے جاری احتجاجی تحریک کا ساتھ دینے والوں یا اس میں شمولیت کرنے والوں کی فہرست بنانے کا کام شروع کردیا ہے۔ ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’سیاسی کارکنوں، ایسے سرکاری ملازمین اور دوسرے شہریوں کی فہرست تیار ہورہی ہے جنہوں نے امن و قانون میں خلل پیدا کیا۔

حکومت دیکھنا چاہتی ہے کہ اس قدر وسیع پیمانہ پر مظاہروں کے پیچھے دراصل کس کا ہاتھ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وادی بھر میں پولیس نے گرفتاریوں کی مہم بھی شروع کردی ہے اور اب تک دو سو سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

واضح رہے آٹھ جولائی کو جنوبی کشمری میں پولیس کے ایک آپریشن میں مسلح رہنما برہان وانی دو ساتھیوں سمیت ہلاک کیے گئے تو کشمیر میں ہندمخالف احتجاجی تحریک شدید ترین مرحلہ میں داخل ہوگئی۔

مظاہرین پر فائرنگ اور چھرے پھینکے اور اب تک پچاس سے زائد افراد ہلاک اور دو ہزار سے زاِئد زخمی ہوچکے ہیں۔ زخمیوں میں سے دو سو ایسے ہیں جن کی آنکھوں میں چھرے لگے ہیں اور ان میں سے پچاس بینائی سے محروم ہوگئے ہیں۔

دریں اثنا حکومت ہند نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کشمیر سے گرفتار ہونے والا شخص سیف اللہ بہادر علی پاکستان کے لاہور شہر کا باشندہ ہے اور لشکر طیبہ کی ایما پر وہ لائن آف کنٹرول عبور کرکے ’بھارتی مظالم کا بدلہ لینے آیا تھا‘۔ حکومت ہند کی نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ اس گرفتاری سے یہ صاف ہوگیا ہے کہ کشمیر میں عوامی مظاہروں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے۔

اسی بارے میں