انڈین ریاست گجرات میں ہزاروں دلتوں کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حالیہ چند ہفتوں سے دلت برادری میں غم و غصہ پایا جاتا ہے

انڈین ریاست گجرات میں دلتوں پر ہونے والے حملوں کے خلاف تقریبا 25 ہزار دلتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں چار دلت نوجوانوں کو ایک مردہ گائے کی کھال اتارنے پر سرعام نیم برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس پر دلت برادری میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ریاست کے دارالحکومت احمدآباد میں مظاہرین نے احتجاج کے دوران ایسے کام کرنے کا بائیکاٹ کرنے کے عزم کا اظہار کیا جو عام طور پر دلتوں سے منسوب کیے جاتے ہیں جیسا کہ مردہ جانوروں کو ٹھکانے لگانا اور سیویج کی ہاتھ سے صفائی وغیرہ۔

خیال رہے کہ ہندو گائے کو مقدس جانور تسلیم کرتے ہیں۔

ریاست گجرات میں گائے کو مارنے یا ذبح کرنے کر پابندی عائد ہے تاہم مظاہرین کا کہنا تھا کہ جس جانور کی وجہ سے نوجوانوں پر حملہ کیا گیا وہ قدرتی موت مرا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رواں ماہ کے آغاز میں چار دلت نوجوانوں کو ایک مردہ گائے کی کھال اتارنے پر سرعام نیم برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا

اتوار کو ہونے والے مظاہرے میں دلت دہنما جگنیش میوانی نے دلتوں سے مطالبہ کیا کہ انھیں اپنی حفاظت کے لیے آتشیں اسلحہ رکھنا ہوگا۔

میوانی کا کہنا تھا کہ بی جے پی نہ کانگریس ان کی مدد کے لیے نہیں آئیں گے۔ ’صرف ہماری متحد طاقت ہی اپنی صدیوں پرانے تسلط سے لڑنے میں مدد کر سکتی ہے۔‘

دلت رہنماؤں نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ایک 24 سالہ نوجوان جس سے نوجوانوں پر حملے کے خلاف احتجاجا زہر کھا لیا تھا وہ اتوار کو ہسپتال میں چل بسا ہے۔

اسی بارے میں