انڈیا میں ریپ کے تین ملزمان کا ریمانڈ

تصویر کے کاپی رائٹ unk
Image caption اس واقعے کے بعد ملک میں غم و غصہ پایا جاتا ہے

انڈیا میں ایک ماں اور ان کی نوجوان بیٹی سےگینگ ریپ میں ملوث تین مشتبہ افراد کو 14 دن کے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ماں بیٹی کو دارالحکومت دہلی کے مضافات میں ایک شاہراہ پر ملزمان نے زبردستی کار سے باہر نکال کر ریپ کیا تھا۔

کار میں سوار دیگر تین مردوں پر تشدد بھی کیا گیا تھا۔

٭ انڈیا: اسرائیلی سیاح سے جنسی زیادتی، دو گرفتار

اس واقعے کے بعد ملک میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور پولیس کی کاررکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

اس واقعے کے چند متاثرین کا کہنا ہے کہ پولیس کی ہیلپ لائن کے نمبرز پر بار بار فون کرنے پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ان میں ایک شخص نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا ہے کہ پولیس کی ہیلپ لائن مسلسل مصروف تھی اور تاخیر سے فون ملنے کے بعد وہاں موجود پولیس افسر نے خاندان کی فوری مدد کرنے کی بجائے بار بار سوالات پوچھے۔

متاثرہ خاندان نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ بلند شہر کے علاقے میں یہ حادثہ پیش آیا اور اس وقت ان کے قریب سے پولیس کی ایک گاڑی بھی گزری لیکن مدد کے لیے نہیں رکی۔

سینیئر پولیس افسر سنجے پانڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرین کی شناخت پر اتوار کو تین افراد کو گرفتار کیا گیا۔

جبکہ مزید تین افراد کو پیر کے روز حراست میں لیا گیا ہے۔

ریاست اترپردیش کی حکومت نے واقعے کے بعد سات پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے اور تین سو ارکان پر مشتمل ٹاسک فورس کو واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

خاندان سے ملزمان نے نقدی، جیولری اور ان کے موبائل فون بھی چھین لیے تھے۔

انڈیا میں سنہ 2012 میں دارالحکومت دہلی میں ایک طالبہ کے چلتی بس میں ریپ کے بعد ملک بھر میں ریپ کے قوانین سخت کرنے کے بارے میں آواز اُٹھائی گئی تاہم اس کے باوجود ملک بھر میں خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں