ایران نے ’مسلح حملوں‘ میں ملوث 20 افراد کو پھانسی دے دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک میں ہونے والے مسلح حملوں میں ملوث کم سے کم 20 افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ان افراد کو منگل کو پھانسی دی گئی۔ ان افراد پر سنہ 2009 سے 2011 کے دوران خواتین اور بچوں کو مارنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔

٭’ایران میں پھانسیوں کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ‘

٭ ایران: پھانسی سے چند لمحے قبل معافی

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایران میں گذشتہ سال کم سے کم 977 افراد کو پھانسی دی گئی۔

ایران میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں نے حکومت کی جانب سے دی گئی حالیہ پھانسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان افراد کے خلاف قائم کیے جانے والے مقدمات منصفانہ نہیں تھے۔

ایران کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والے امریکی گروپ انٹرنیشنل کمپین فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ پھانسی کی سزا پانے والے ایک شخص شہرام احمدی کا دعویٰ تھا کہ ان کے خلاف قائم کیا جانے والا مقدمہ جبری اعتراف پر مبنی تھا۔

امریکی گروپ کے مطابق منگل کو جن افراد کو پھانسی دی گئی انھیں ان کے خاندان والوں سے ملنے نہیں دیا گیا۔

ایران کے پراسیکوٹر جنرل محمد جاوید نے سرکاری ٹی وی کو بتایا یہ افراد کرد علاقوں سے آئے تھے اور ان کا تعلق شدت پسند گروہوں توحید اور جہاد گروپ سے تھا۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایران کے بعد پاکستان میں 326 جب کہ سعودی عرب میں 158 افراد کو پھانسی دی گئی۔

اسی بارے میں