کشمیر: حضرت بل کی جانب مارچ کی کوشش ناکام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیں

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں جمعے کے روز ناکہ بندیوں اور پابندیوں کے باوجود علیحدگی پسند رہنماؤں نے حضرت بل درگاہ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تاہم انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

وادی کے دوسرے علاقوں سے بھی لوگوں نے درگاہ کی طرف مارچ کرنے کی کوششیں کیں لیکن پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے انھیں آنسوگیس اور ہوائی فائرنگ سے منتشر کر دیا۔

اس دوران وادی کے علاوہ جموں کے بعض مسلم اکثریتی ضلعوں میں بھی کشمیر میں ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف جمعے کو ہڑتال کی گئی۔

کشمیر میں 28 دن سے ہڑتال، کرفیو اور دوسری پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ انٹرنیٹ پر پابندی کا دائرہ اب جموں تک وسیع کر دیا گیا ہے۔

کشمیر کی تاریخی جامع مسجد، حضرت بل کی درگاہ اور دوسرے اہم مقامات کی ناکہ بندی کے باعث وہاں جمعے کی نماز نہیں ہوسکی۔

گرفتاری سے قبل حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیں۔

ان کا کہنا تھا: ’اگر آج بھی یہ ادارے کشمیریوں پر ڈھائے جا رہے مظالم کا نوٹس نہیں لیتے تو ان دفاتر کو بند کردینا چاہیے۔‘

علیحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے مشترکہ بیان میں لوگوں سے کہا ہے کہ وہ 12 اگست تک ہڑتال کو جاری رکھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنوبی کشمیر میں لوگوں نے رات کے دوران پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی جانب سے مکینوں کی مار پیٹ کرنے کی کارروائیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا

انھوں نے مزید کہا ہے کہ اس دوران بستیوں، ہسپتالوں اور عوامی مقامات کی صفائی کی جائے اور ہند نواز اراکین اسمبلی کے گھروں پر پوسٹر چسپاں کر کے ان سے مستعفی ہونے کی اپیل کر یں۔

اس صورتحال میں کشمیر کے ہند نواز حلقوں کو بھی یہ خدشہ ستانے لگا ہے کہ وہ اپنی سیاسی ساکھ کھو رہے ہیں۔

ہند نواز رکن اسمبلی انجنیئر رشید نے اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف اپنے حمایتیوں سمیت مارچ کی کوشش کی تاہم انھیں گھر میں ہی نظر بند کر دیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’گجرات میں دلتوں کے ساتھ ہوئی تو وزیراعظم نریندر مودی بول پڑے، لیکن ہمارے یہاں قتل عام ہو رہا ہے اور مودی اندھے، بہرے اور گونگے بنے ہوئے ہیں۔‘

دریں اثنا انڈین پارلیمان میں منتخب سبھی پارٹیوں کے اراکین کا ایک وفد کشمیر کا دورہ کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، تاہم اس بارے میں ابھی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔

جنوبی کشمیر میں لوگوں نے رات کے دوران پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی طرف سے گھروں میں زبردستی داخل ہوکر مکینوں کی مار پیٹ کرنے کی کارروائیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

بیشتر علاقوں میں خواتین ہند مخالف مظاہرے کر رہی ہیں اور اکثر مقامات پر فورسز ان پر شیلنگ کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں