بالی وڈ میں ہندوتوا فلاپ کیوں ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ afp pti
Image caption اداکار عامر خان سخت گیر ہندو تنظیموں اور اور سخت گیر ہندو سیاست دانوں کا نشانہ بنتے رہے اور ان لوگوں نے ان کے خلاف بائیکاٹ کی مہم چلا رکھی ہے

بھارت کے وزیر دفاع منوہر پریکر نے پچھلے دنوں ایک تقریب میں اپنے حامیوں سے مغرور انداز میں کہا کہ جو بھی ’ملک‘ کے خلاف آواز اٹھائے اسے بالکل اسی طرح سبق سکھانے کی ضرررت ہے جس طرج انھوں نے ملک کے ایک معروف اداکار کو سکھایا۔

اگرچہ انھوں نے عامر خان کا نام نہیں لیا تھا لیکن ان کا اشارہ عامر خان کی طرف ہی تھا۔

چند مہینے قبل عامر خان نے ملک کے حالات پر تشویش کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں عدم رواداری اتنی بڑھ گئی ہے کہ ان کی بیوی نے گبھرا کر پوچھا تھا کہ کیا انھیں ملک چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔

عامر کے اس بیان کے بعد ملک میں شدید رد عمل ہوا تھا۔ خاص طور سے بی جے پی نے ان کے بیان پر سخت نکتہ چینی کی تھی اور سخت گیر ہندو تنظیموں نے ان کے بائیکاٹ کی مہم چلا رکھی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بھارتی وزیر دفاع پریکر کا کہنا تھا کہ ان کے لوگوں نے نہ صرف عام کو بلکہ کمپنی کو بھی ایک منظم طریقے سے زبردست تجارتی نقصان پہنچایا ہے

عامر کے خلاف ان تنطیموں کی مہم اتنی شدید تھی کہ ایک آن لائن تجارتی کمپنی کو جس نے اشتہارات میں عامر کو اپنا اشتہاری نمائندہ بنا رکھا تھا اسے اپنے اشتہاروں سے عامر کو ہٹانا پڑا۔ پریکر کا کہنا تھا ’ان کے لوگوں نے‘ کمپنی کو بھی ایک منظم طریقے سے زبردست تجارتی نقصان پہنچایا ہے۔

بالی وڈ آرٹ اور کلچر کا اہم مرکز ہے۔ اگرچہ بیشتر ہندی فلمیں خالص تفریحی نوعیت کی ہوتی ہیں لیکن ان فلموں میں ہمیشہ مثبت پیغام دیے جاتے رہے ہیں۔ ملک کےحالات جیسے بھی رہے ہوں ہندی فلموں نے انڈیا کی مشترکہ تہذیب، تقافت اور بالخصوص سیکیولر اقدار کی نمائندگی کی ہے۔ بالی وڈ ایک ادارے کےطور پر بذات خود ایک مثالی سیکیولر ادارہ رہا ہے۔ یہ ہمیشہ تنگ نظر تصورات کے خلاف رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عامر نے کہا تھا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں عدم رواداری اتنی بڑھ گئی ہے کہ ان کی بیوی نے گبھرا کر پوچھا تھا کہ کیا انہیں ملک چھوڑنا پڑ سکتا ہے

بالی وڈ ایک عرصے سے لبرل اور قوم پرست تصورات کی کشمکش کی زد میں ہے۔

خاص طور سے انڈسٹری کے تین سرکردہ اداکار شاہ رخ خان، عامر خان اور سلمان خان اکثر قوم پرستوں کی سیاست کا شکار بنے ہیں۔ ایک مرحلے پر پوری فلم برادری اعتدال پسند اور قوم پرستوں کے د رمیان منقسم ہوتی ہوئی نظر آنے لگی تھی۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے جب ملک کی ہندو تنطیموں نے کسی اداکار کے خلاف اس کے تصورات کے لیے اقتصادی بائیکاٹ کی ایک منظم مہم چلا رکھی ہے۔

اگر وزیر دفاع کے سبق سکھانے کے بیان کا اعتبا ر کریں تو یہ تحریک بظاہر ان کی جماعت کی ایما پر چلائی جا رہی ہے۔ ان سے پہلے بی جے پی کے ایک سادھو رکن پارلیمان آدتیہ ناتھ نے عامر اور شاہ رخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ہندوؤں نے شہرت اور دولت دی ہے اور وہ اب انہیں خاک چٹائیں گے۔

Image caption ہندو تنظیموں اور بی جے پی کی ان بڑے اداکاروں کے خلاف نفرت اور بائیکاٹ کی مہم ابھی تک پوری طرح ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے

ان اداکاروں کے خلاف نفرت اور بائیکاٹ کی مہم ابھی تک پوری طرح ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔

بالی وڈ کی بہت سی فلمیں اس ٹکراؤ اور کشیدگی کے اس مشکل دور میں ریلیز ہوئی ہیں۔ ان سبھی میں مثبت پیغامات دیے گئے اور وہ سبھی فلیمں بے پناہ مقبول ہوئیں۔ سلمان خاں کے ایک متنازع اور غیر ذمے دارانہ بیان کے باوجود ان کی حالیہ فلم ’سلطان‘ نے کامیابی کے ماضی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ فلم کے مرکزی کردار مسلم دکھائے گئے ہیں۔

لیکن بالی وڈ کی اقدار کو سب سے بڑے امتحان کا سامنا دسبمر میں کرسمس ہفتے کے دوران ہوگا جب عامر خان کی فلم ’دنگل‘ ریلیز ہوگی۔ عامر کے خلاف سوشل میڈیا پر بائیکاٹ کی مہم پورے زوروں پر ہے۔ فلم کی ریلیز کا وقت جیسے جسے قریب آئے گا یہ مہم اور شدت اختیار کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ spice pr
Image caption فلم ’دنگل‘ سے یہ معلوم ہوگا کہ عامر کو عدم رواداری پر تشویش کے اظہارکے لیے واقعی سبق سکھا گيا یا ماضی کی طرح اس بار بھی تنگ نظر تصورات کو بالی ووڈ سے منھ کی کھانی پڑی ہے

منوہر پریکر اور دائیں بازو کی تنطیموں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ عامر ملک کے دشمن نہیں ہیں۔

ان کی یہ تحریک در اصل خیالات کے اظہار کی آزادی کے خلاف ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس تحریک سے یہ تنظیمیں ان خیالات اور تصورات کو دبانا چاہتی ہیں جو ان دائیں بازو کی تنظیموں کے ہندو قوم پرستی کےتصورات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

فلم اظہار کی آزادی کا ایک طاقت ور ذریعہ ہے۔ بالی وڈ اپنی فلموں سےمثبت پیغام دیتا رہا ہے۔ عامر کے خیالات سے بہت سےلوگ متفق نہیں ہیں لیکن وہ اس بات سے بھی متفق نہیں ہیں کہ عامر کو اپنے خیالات کےاظہار کا حق نہیں ہے۔

عامر کی فلم ’دنگل‘ سے یہ معلوم ہو گا کہ منوہر پریکر اور ان کے حامیوں نے عامر کو عدم رواداری پر تشویش کے اظہارکے لیے واقعی سبق سکھا دیا ہے یا ماضی کی طرح اس بار بھی تنگ نظر تصورات کو بالی وڈ سے منہ کی کھانی پڑی ہے۔

اسی بارے میں