’انڈیا کا دہشت گردی پھیلانے کی کوششوں پر احتجاج‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق 21 سالہ بہادر علی عرف ابو سیف اللہ لاہور کی تحصیل رائے ونڈ کے گاؤں جیا بگا کا رہائشی ہے

انڈیا کےدفترخارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ انڈین سیکریٹری خارجہ نے نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو دفتر خارجہ طلب کر کے پاکستان کی انڈیا میں مبینہ دہشت گردی پھیلانے کی کوششوں پر احتجاج کیا ہے۔

انڈیا کے دفتر خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ سیکریٹری خارجہ جے شکر نے پاکستانی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے انھیں پاکستان سے سرحد پار ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا ہے۔

انڈیا کے دفتر خارجہ کے ترجمان کےمطابق پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کے حوالے کیے جانے والے احتجاجی مراسلے میں ایک پاکستانی شہری بہادر علی کا حوالہ دیا گیا ہے جس کو مبینہ طور پر انڈین قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 25 جولائی کو انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر سے گرفتار کیا تھا۔

انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق 21 سالہ بہادر علی عرف ابو سیف اللہ لاہور کی تحصیل رائے ونڈ کے گاؤں جیا بگا کا رہائشی ہے۔

انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنی ٹویٹ میں مزید کیا کہ دوران تحقیق بہادر علی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ لشکر طیبہ کے کیمپوں میں تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ انڈیا میں داخل ہوا، اور وہ مسلسل لشکر طیبہ کے ’آپریشنز روم‘ سے رابطے میں تھا جہاں سے انڈین سکیورٹی فورسز پر حملوں کی ہدایت ملیں۔

اسی بارے میں