جہاں مسلمان خاتون کو دیوی مانا جاتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ prashant dayal

انڈیا میں مندر اور مسجد کے نام پر فسادات ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن گجرات کے گاندھی نگر کے پاس جھلاسن گاؤں میں ایک مسلمان خاتون کی دیوی کے طور پر پوجا بھی کی جاتی ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ اس گاؤں میں ایک بھی مسلمان خاندان آباد نہیں ہے۔

یہ گاؤں تب شہ سرخیوں میں آیا تھا جب بھارتی نژاد امریکی خلاباز سنیتا ولیمز اپنے والد کے ساتھ گاؤں میں ڈولا ماں نام کی دیوی کے درشن کرنے آئی تھیں۔

یہ گاؤں گاندھی نگر سے کوئی 20 کلومیٹر دور ہے اور اس کی آبادی پانچ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ گاؤں میں ایک بھی ایسا خاندان نہیں ہے جس کا کوئی نہ کوئی رکن بیرون ملک نہ رہتا ہو۔

یہاں آٹھ سو برس پرانا ڈولا ماں کا مندر واقع ہے۔

جھلاسن سے متصل گاؤں كلول کے بی جے پی کے مقامی رہنما مکیش پٹیل نے اس بارے میں بی بی سی کو بتایا: ’ڈولا ماں ایک مسلمان خاتون تھیں۔ ایسا ہمارے باپ دادا نے ہمیں بتایا تھا۔‘

ڈولا ماں کی کہانی سناتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ’جب گاؤں میں لٹیرے آتے تھے اور گاؤں کو لوٹ کر چلے جاتے تھے تو پڑوس کے گاؤں سے گزرنے والی ایک مسلمان خاتون نے دیکھا کہ جھلاسن گاؤں میں لوٹ مچی ہوئی ہے۔ انھوں نے رک کر ڈاکوؤں کو للکارا اور لڑتے لڑتے جان دے دی۔ آج جہاں مندر ہے وہ وہیں ہلاک ہوئی تھیں۔ اس کے بہت برسوں بعد ان کے نام پر مندر تعمیر ہوا۔ ہماری ان سے عقیدت ہے۔ وہ ہماری حفاظت بھی کرتی ہیں اور ہماری تکلیفیں بھی دور کرتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ prashant dayal

جھلاسن گاؤں کے جو لوگ بیرون ملک آباد ہیں، ان میں امریکی خلا باز سنیتا ولیمز کے والد دیپک پنڈیا بھی شامل ہیں۔

دیپک پنڈیا 22 برس کی عمر تک جھلاسن ہی میں رہتے تھے، جس کے بعد وہ امریکہ چلے گئے تھے۔ سنیتا ولیمز جب پہلی بار خلا میں جانے والی تھیں تو وہ اپنے والد کے ساتھ ڈولا ماں کے مندر میں حاضری دینے آئی تھیں۔

مندر کے پجاری دنیش پنڈیا نے بی بی سی کو بتایا کہ جھلاسن کا بیرونِ ملک مقیم کوئی بھی باشندہ ہوائی اڈے سے براہ راست ڈولا ماں کے درشن کرنے کے بعد ہی گھر جاتا ہے۔

گاؤں کے رہائشی وشنو پٹیل نے بتایا کہ ڈولا ماں کے مسلمان ہونے کے باوجود گاؤں میں ایک بھی مسلمان خاندان نہیں ہے۔ تاہم اتوار اور جمعرات کو ڈولا ماں کے منت کا دن سمجھا جاتا ہے۔ اس دن کو اردگرد کے دیہات سے بڑی تعداد میں مسلمان بھی آتے ہیں۔

گجرات کے سینیئر صحافی پورو پٹیل نے بتایا کہ سنہ 2002 کے فسادات میں شمالی گجرات کے کئی دیہات میں فسادات ہوئے تھے اور مندروں اور مساجد کو توڑا گیا تھا۔ لیکن ڈولا ماں کے مندر کو کسی نے نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچا تک نہیں۔

اسی بارے میں