انڈیا میں چلتی ٹرین سے پانچ کروڑ روپے چوری

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چوری کا پتا اس وقت چلا جب ٹرین اپنی منزل پر پہنچی

انڈیا کی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں چوری کے ایک غیر معمولی واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اس واقعے میں چوروں نے ایک ٹرین کو نشانہ بنایا جس میں استعمال شدہ اور خراب کرنسی نوٹ لے جائے جا رہے تھے۔ چوروں نے ٹرین کی چھت کاٹ کر پانچ کروڑ پچہتر لاکھ روپے لوٹ لیے۔

پولیس تاحال غیر یقینی کا شکار ہے کہ چور ٹرین کے اندر چھپے تھے یا چلتی ٹرین میں داخل ہوئے۔

چوری کا پتہ اس وقت چلا جب ٹرین اپنی منزل پر پہنچی۔

یہ خبر انڈین میڈیا میں بڑے پیمانے پر نشر کی گئی اور اسے ’دی گریٹ ٹرین رابری‘ یعنی ٹرین کے عظیم ڈاکے کا نام دیا گیا۔

پولیس کا خیال ہے کہ اس چوری میں چھ سے آٹھ ڈاکو شامل تھے جنھوں نے پیر اور منگل کی درمیانی رات 350 کلو میٹر طویل سفر کے دوران یہ چوری کی۔ ٹرین سلیم ٹاؤن سے مدراس جا رہی تھی۔

اس ریل گاڑی پر 3.4 ارب روپے لے جائے جا رہے تھے اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکار اگلے ڈبے میں موجود تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Express Photo
Image caption اس ریل گاڑی پر 3.4 ارب روپے لے جائے جا رہے تھے اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکار اگلے ڈبے میں موجود تھے

یہ نوٹ انڈیا کے مرکزی بینک کی ملکیت تھے اور انھیں تلف کرنے کے لیے چنئی لے جایا جا رہا۔

جب ٹرین منزل پر پہنچی تو حکام نے اندر جا کر دیکھا کہ نوٹوں کی پیٹیاں کھلی پڑی ہیں اور ٹرین کی دھاتی چھت میں ایک سوراخ بنا ہوا ہے۔

پولیس سپرنٹینڈنٹ پی وجے کمار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ٹرین کے محافظ اور پولیس اہلکاروں سے پوچھا جا رہا ہے کہ آیا انھوں نے ٹرین کی چھت پر کوئی غیر معمولی آوازیں یا شور سنا تھا۔

آئی جی پولیس نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ چوروں نے نوٹوں کے تھیلے چھت کے راستے باہر منتقل کیے۔

یہ ٹرین چنئی کے سٹیشن پر کھڑی ہے جہاں پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ نوٹ انڈیا کے مرکزی بینک کی ملکیت تھے اور انھیں تلف کرنے کے لیے چینیئی لے جایا جا رہا

اسی بارے میں