کشمیر کے حالات معمول پر کیسے لائے جائیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ سے مکمل کرفیو نافذ ہے لیکن اس کے باوجود بھارت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ نہیں رکا ہے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ایک سینیئر صحافی بشیر منظر کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے کشمیر سے متعلق بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف امن و قانون کا معاملہ نہیں ہے۔

ان کے مطابق وادی کے حالات کو معمول پر لانے کے لیے سکیورٹی فورسز کو پیلٹ گن کا استعمال فوری طور پر روک دینا چاہیے۔

* یہ سب کشمیر پر چپ کیوں ہیں؟

٭ ’پیلٹ گن مارتی نہیں زندہ بنا دیتی ہے‘

ان کے بقول وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی کشمیر کے دورے کے وقت اسی کی امید ظاہر کی تھی۔

سی آر پی ایف اور دیگر سکیورٹی فورسز مظاہروں کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے 2008 اور 2010 کی تحریک سے کوئی سبق نہیں حاصل کیا۔

سکیورٹی فورسز نے جتنی بھی گولیاں چلائی ہیں، وہ سب کی سب جسم کے اوپری حصوں میں لگی ہیں، ایسا کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکیورٹی فورسز نے جتنی بھی گولیاں چلائی ہیں، وہ سب کی سب جسم کے اوپری حصوں میں لگی ہیں، ایسا کیوں

اگر حکومت اب پیلٹ گن کا استعمال روک دے اور فوج کو حاصل خصوصی اختیارات والے قانون ’افسپا‘ پر بحث شروع کرے کہ اسے ریاست میں کہاں کہاں سے ہٹا دیا جا سکتا ہے، تو یہ صورت حال کو بہتر کرنے کی سمت میں ایک قدم ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اب جگہ جگہ خواتین بھی سڑکوں پر نکل رہی ہیں اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے خلاف سرپا احتجاج بن گئی ہیں

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ کشمیر کو امن چاہیے اور وہ جموں و کشمیر کی ترقی چاہتے ہیں اور ترقی کے ذریعہ تمام مسائل کا حل تلاش کر رہے ہیں۔

آج کشمیر کے جو حالات ہیں، اسے دیکھتے ہوئے وزیر اعظم کو بہت پہلے ہی یہ قدم اٹھانے چاہیے تھے۔ انہیں ریاست کے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے چاہیے تھے۔

گذشتہ 32 دنوں سے کشمیر میں حالات بہت خراب ہیں، تقریباً 60 لوگ مارے گئے ہیں، ہزاروں زخمی ہیں اور ہر جانب پیلیٹ گن کا استعمال بے دریغ کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر کی جو زمینی حقیقت ہے، اس کے پیش نظر لوگوں کو بہت زیادہ توقع نہیں ہے

کشمیر کی جو زمینی حقیقت ہے، اس کے پیش نظر لوگوں کو بہت زیادہ توقع نہیں ہے۔

ماضی کے ان کے تجربے بھی بہت تلخ ہیں۔ 2010 کی تحریک میں تقریباً 120 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس میں زیادہ تر نوجوان تھے

اس تحریک کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے تین مذاکرات کاروں کی ایک ٹیم کو کشمیر بھیجا تھا۔ اس ٹیم نے کشمیر میں عام لوگوں اور مختلف فریقوں سے بات چيت کے بعد اپنی رپورٹ وزارت داخلہ کو سونپی تھی۔ لیکن اب تک اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

اسے دیکھتے ہوئے کوئی کشمیری کس طرح اس بات کی توقع کر سکتا ہے کہ حکومت اس بار کوئی قدم اٹھائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

وزیر اعظم کے بیان کے بعد مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ مرکزی حکومت اس معاملے پر سنجیدہ ہو رہی ہے۔ اسے لگ رہا ہے کہ یہ امن و قانون سے کہیں زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔

کشمیر کے علیحدگی پسندوں کا ایجنڈا بالکل صاف ہے۔ وہ کسی بھی حالات میں کشمیر کو بھارت کے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی تجویز کے مطابق ریفرینڈم ہو اور لوگوں کو حق ارادیت کا حق ملے۔ لیکن وہ بھارت پاکستان کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں۔

اسی بارے میں