بِہار کے نیسلے اور ہارلکس نامی گینگ

تصویر کے کاپی رائٹ Manish Shandilya

ریاست بہار میں دس جولائی کی رات کو ایک سابقہ وزیر شاہد علی خان کے مکان میں چوری ہوئی۔ پٹنہ کی پولیس نے تحقیقات میں تیزی دکھائی اور واقعے کے چار دن بعد ہی واردات میں مبینہ طور پر ملوث پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق اس چوری کے پیچھے نیسلے گینگ کا ہاتھ تھا۔

گینگ کا نام سن کر اگر آپ کو حیرت ہوئی ہوگی لیکن ایسے نام والا یہ واحدگینگ نہیں ہے۔ دراصل نیسلے، بورن ویٹا، ہارلكس، دھکّا مار جیسے نام ریاستی دارالحکومت پٹنہ میں سرگرم جرائم پیشہ گروہوں کے ہیں۔

پٹنہ کے سینیئر ایس پی منو مہاراج بتاتے ہیں: ’ایسے گروہوں کے ارکان کے نام بھی کافی دلچسپ ہیں۔ یہ دارالحکومت پٹنہ سے لے کر دانا پور تک وارداتیں کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Manish Shandilya

ہڈّیا، فٹ بال، مرچّيا، كن جھپّا یہ چند نام ان گروہوں کے ارکان کے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ گروہ اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے آپس میں بھی الجھتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے شوق پورا کرنے اور داداگیری دکھانے کے لیے جرم کرتے ہیں۔

منو مہاراج کہتے ہیں: ’کئی ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں ان گروہوں کے نوجوانوں نے اپنی گرل فرینڈز کو متاثر کرنے یا اپنے ساتھی جیسی مہنگی موٹر سائیکل خریدنے کے لیے جرائم کیا ہے۔‘

پولیس کی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گروہ سے منسلک بہت سے نوجوان کھاتے پیتے گھروں کے ہیں۔ ان گروہوں سے سکول، کالج اور مختلف امتحانات کی تیاری کرنے والے لڑکے بھی وابستہ بتائے جاتے ہیں۔

پٹنہ کے سینیئر ایس پی بتاتے ہیں: ’یہ نوجوان ایسے گھروں سے پائے گئے ہیں جن کے والدین کا اپنے بچوں پر ضروری کنٹرول نہیں رہ جاتا۔ وہ اپنے بچوں کو کچھ زیادہ ہی چھوٹ دے بیٹھتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Manish Shandilya

ڈاکٹر بندا سنگھ پٹنہ کی معروف ماہر نفسیات ہیں۔ بندا کے مطابق پرورش، سماجی ماحول اور مایوسی ایسے نوجوانوں کو جرم کی طرف دھکیل رہی ہے۔

نوجوانوں میں انتشار کی وجوہات بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں: ’آج کے نوجوانوں میں صبر نہیں ہے۔ ان کے لائف سٹائل میں مہنگی چیزوں نے خاص جگہ بنا لی ہے۔ یہ مہنگی سہولیات جب انھیں آساني سے ملتی نظر نہیں آتیں تو وہ اپنے ہم عمر نوجوانوں کے ساتھ مل کر غلط راستہ اپناتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Neeraj Sahai

پولیس کے لیے تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ ان گروہوں کے کئی نوجوان اب شوقیہ بدمعاشی کی جگہ ’رپيٹ کریمنل‘ اور ’ہسٹری شیٹر‘ بن گئے ہیں۔ بعض ایک قتل کو بھی انھیں گروہوں نے انجام دیا ہے۔

نیسلے گینگ سے برآمد سامانوں میں لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک سامان بھی ملے ہیں۔

بندا کہتی ہیں کہ ایسے نوجوانوں کو بھی درست کیا جا سکتا ہے، انھیں صحیح راستہ دکھانے کی ضرورت ہے جس کی پہلی ذمہ داری ان کے خاندانوں والوں کی بنتی ہے۔

منو مہاراج کا کہنا ہے کہ ’ہم ان پر مسلسل نگرانی رکھ رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ یہ مرکزی دھارے میں شامل ہو جائیں اور ایسی حرکتوں سے باز آ جائیں۔‘

اسی بارے میں