انڈیا میں گائے ذبح کرنے کے شبہے میں دو افراد پر تشدد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش میں پولیس کا کہنا ہے کہ مشتعل ہجوم نے دو دلت رشتے داروں کو گائے ذبح کرنے کے شہبے میں تشدد کا نشانہ بنایا۔

پولیس کے مطابق 50 افراد پر مشتعل ہجوم نے دلت ذات سے تعلق رکھنے والے دو رشتہ دار موکتی الیشا اور وینکیتیشور راؤ کو پیر کے روز درخت سے باندھ کر اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ آندھرا پردیش کے ایک گاؤں میں مردہ گاؤں کی کھال اتار رہے تھے۔

٭ بھارت میں معصوم ’مقدس گائے‘پر سیاست

٭ گوشت کھانے کے شبہے میں ایک شخص قتل

آندھرا پردیش کے مقامی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ لنکا انکھا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جب گاؤں والوں نے موکتی الیشا اور وینکیتیشور راؤ کو مردہ گائے کی کھال اتارتے ہوئے دیکھا تو وہ سمجھے کہ وہ زندہ گائے کو ذبح کر رہے ہیں۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے مطابق ہجوم نے جذبات میں آ کر موکتی الیشا اور وینکیتیشور راؤ پر تشدد کرنا شروع کر دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے اس واقعے کے بعد اب تک سات افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shilpa Kannan

واضح رہے کہ یہ واقعہ انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے دلتوں کے خلاف حملوں بند کرنے کی اپیل کے چند دنوں میں سامنے آیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کو رونما ہونے والے اس واقعے کے بعد موکتی الیشا اور وینکیتیشور راؤ کا قریبی ہسپتال میں علاج جاری ہے۔

پولیس کے مطابق تشدد کی وجہ سے وینکیتیشور راؤ کا ایک کان سماعت سے محروم ہو گیا ہے۔

موکتی الیشا کے بیٹے چنتی بابو کا کہنا ہے کہ ان کے والد اور چچا پر زخموں کے نشانات ہیں۔

بابو نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہمیں یہ اطلاع ملی کہ مشتعل ہجوم نے میرے والد اور چچا کو درخت سے باندھ کر تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور جس وقت ہم وہاں پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ دونوں پر تشدد کیا جا چکا تھا۔

بابو کے مطابق میرے والد اور چچا پر پتھراؤ کے ساتھ ساتھ چھڑیوں سے تشدد کیا گیا اور انھیں اس جرم کی سزا دی گئی جو انھوں نے سرانجام نہیں دیا تھا۔

خیال رہے کہ انڈیا کی زیادہ تر ریاستوں میں گائے کے ذبیحے پر پابندی ہے۔ گائے کے گوشت یا بیف پر پابندی پر تنقید کی جاتی رہی ہے کیونکہ بیف مرغی اور مچھلی سے سستا ہوتا ہے اور یہ گوشت غریب مسلمانوں، قبائلی لوگوں اور دلتوں (جنھیں ماضی میں شودر کہا جاتا تھا) کی خوراک ہے۔

گذشتہ سال انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں ایک 50 سالہ شخص کو ہجوم نے اس وقت ہلاک کر دیا جب یہ افواہ پھیلی کے مذکورہ شخص اور اس کے گھر والوں نے گھر میں گائے کا گوشت چھپا رکھا اور وہ بیف کھاتے ہیں۔

اسی بارے میں