انڈیا کو بیٹیوں کا دن منانے کی ضرورت کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Image copyrightCOURTESY MANEKA GANDHI
Image caption خواتین اور بچوں کی بہبود کے لیے وزیرِ منیکا گاندھی اپنی بہو اور پوتی کے ہمراہ

انڈیا میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بیٹی، بہو اور پوتیوں کا دن منانے کی ہفتہ وار مہم شروع کی گئی ہے اور جمعرات کو اسی سلسلے میں ’بیٹیوں کا دن‘ منایا جا رہا ہے۔

خواتین اور بچوں کی بہبود کی وزیرِ منیکا گاندھی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بیٹیوں کا دن اور ہفتہ منانے کا مقصد لڑکیوں کو تعلیم دلوانے اور صنفی تناسب میں آنے والی بہتری کا شعور اجاگر کرنے سمیت غیر قانونی اسقاطِ حمل کو روکنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین اب بہت بہتر کام کر رہی ہیں اب ان میں بہت اعتماد آ چکا ہے۔

’ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بچیوں کو اہمیت دی جائے۔‘

جمعرات کو بیٹیوں کے دن کے لیے اس مہم کا آغاز کرتے ہوئے منیکا گاندھی نے اپنی پوتی اور بہو کے ہمراہ اپنی تصویر ٹویٹ کیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ INDIA WCD MINISTRY
Image caption مسز گاندھی نے مختلف لوگوں کی جانب سے بھجوائی جانے والی تصاویر کو ری ٹویٹ کیا

اس مہم میں لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں، بہوؤں اور پوتیوں کی تصاویر فیس بک اور ٹوئٹر اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ہیش ٹیک BBBPDaughtersWeek# کے ساتھ اپ لوڈ کریں۔

اس مہم کے ابتدائی دنوں میں ہی منیکا گاندھی نے درجنوں تصاویر کو ری ٹویٹ کیا۔

بظاہر تو یہ مہم ایک پرلطف عمل لگتی ہے لیکن اگر تھوڑا گہرائی میں جائیے تو جو کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے وہ بہت سنجیدہ نوعیت کا ہے۔

انڈیا اور انڈین معاشرے پر الزام لگتا ہے کہ وہاں مردانہ حاکمیت ہے اور اگر حکومتی ڈیٹا کو بھی دیکھا جائے تو اس سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ وہاں خواتین کے ساتھ اکثر بے رحمی برتی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ INDIA WCD MINISTRY
Image caption وزیر کا کہنا ہے کہ اس مہم کو چلانے کے لیے عوام کی جانب سے بھرپور ردِعمل مل رہا ہے

ہر سال سینکڑوں بچیوں کو پیدائش سے قبل ہی مار دیا جاتا ہے اور ہر روز جہیز کے نام پر کم از کم 22 خواتین ماری جاتی ہیں جبکہ وہاں ہر 22 منٹ میں ایک خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ہر پانچ منٹ میں ایک عورت اپنے ہی گھر کے اندر تشدد کا شکار ہوتی ہے۔

ملک میں کئی دہائیوں سے حکام اور عورتوں کے حقوق کےلیے آواز اٹھانے والے مہمات کے ذریعے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔

انڈیا میں جنس کی بنا پر اسقاطِ حمل کے خلاف سخت قوانین بن چکے ہیں، جہیز بہت پہلے سے غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے، جو خواتین شادی کے بعد بدسلوکی کا سامنا کرتی ہیں ان کے لیے قانونی راستے موجود ہیں اس کے علاوہ جنسی زیادتی کے خلاف بھی دوبارہ سے قوانین بنائے گئے ہیں جن میں موت کی سزا بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL
Image caption گذشتہ برس اپنے ایک خطاب میں وزیراعظم نریندر مودی نے ملک بھر میں موجود باپوں کو پیغام دیا تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ سیلفی لیں

یقیناً انڈیا میں خواتین کے حوالے سے مثبت کہانیاں بھی ملتی ہیں۔ آج کی خاتون سیاست دان بھی ہے، سائنس دان بھی، بینکوں کی سربراہی بھی کر رہی ہے اور کارپوریٹ سیکٹر میں بھی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔

منیکا گاندھی نے اپنی گفتگو میں یہ وضاحت بھی کی کہ وہ کیوں بیٹیوں، بہوؤں اور پوتیوں اور نواسیوں کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔

  • بیٹیوں کے لیے اس لیے کیونکہ لوگ انھیں بوجھ سمجھتے ہیں، بیٹے سے کم تر سمجھتے ہیں اور ان پر پیسہ خرچ کرنے کو نقصان تصور کرتے ہیں کہ وہ تو بیاہ کر گھر سے رخصت ہو جائیں گی۔
  • بہوؤں کے لیے اس لیے کیونکہ ’ہم انھیں مار رہے ہیں، اور ’ہم لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بہو سے وہی سلوک کریں جیسا اپنی بیٹی سے کرتے ہیں۔‘
  • اور پوتیوں کے لیے اس لیے کیونکہ بہت سے کیسز میں ساس ہی اپنی بہو کو مجبور کرتی ہے کہ وہ رحم میں موجود بچی کو ختم کر دے اس لیے ہم دادیوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ بچیوں کو بھی دنیا میں آنے دیں۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ حکومت خواتین اور بچیوں کی بہتری کے لیے بہت کام کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس مہم کام مقصد بیٹی کی زندگی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے

گذشتہ برس جنوری میں وزیراعظم نریندر مودی نے بچیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر ’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ ‘مہم کا آغاز کیا تھا۔

ان دنوں ہریانہ کے گاؤں کے ایک مکین نے اپنی بیٹی کے ساتھ سیلفی لی۔ وزیراعظم نے بھی اس عمل کو پھیلانے کے لیے ملک بھر میں موجود بچیوں کے والد کو پیغام دیا کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ سیلفی لیں اور انھیں بھیجیں۔

اب منیکا گاندھی کی مہم بھی ایک ایسی ہی کوشش ہے جس کے ذریعے لوگوں میں یہ شعور اجاگر کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو بھی اہمیت دیں۔