ریو: ایرانی خواتین کے میچ دیکھنے کے حق میں احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دریا کو سکیورٹی حکام نے میچ سے نکالنے کی کوشش کی

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں جاری اولمپکس میں مردوں کے والی بال میچ کے دوران ایرانی خاتون کارکن نے اپنے ملک میں خواتین کے میچ دیکھنے پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

ایران اور مصر کے درمیان مردوں کے والی بال میچ کے دوران ایرانی کارکن دریا صافی نے ایک احتجاجی کتبہ اٹھا رکھا تھا۔

اس کتبے پر درج تھا کہ’ ایرانی خواتین کو سٹیڈیمز میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔‘

خیال رہے کہ ایران میں خواتین پر فٹبال میچ دیکھنے پر سال 1979 سے پابندی عائد ہے جبکہ سال 2012 میں اس پابندی میں والی بال میچوں کو بھی شامل کر دیا گیا تھا۔

دریا کے احتجاج پر سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں کتبہ نیچے رکھنے اور سٹیڈیم سے باہر جانے کا کہا لیکن انھوں نے مزاحمت کی جس پر سکیورٹی اہلکاروں کو واپس جانا پڑا۔

دریا نے سارے میچ کے دوران احتجاجی کتبہ اٹھائے رکھا۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے کھیلوں کے دوران سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

دریا صافی کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے تمام والی بال میچوں میں احتجاج کے لیے شرکت کریں گی جس میں آئندہ میچ پیر کو منعقد ہونا ہے۔

میچ میں احتجاج کے دوران دریا صافی مسکراتی رہی لیکن جب سکیورٹی اہلکار ان کو سٹیڈیم سے نکالنے آئے تو وہ رونے لگیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دریا صافی نے میچ کے دوران احتجاجی کتبہ اٹھائے رکھا

انھوں نے سکیورٹی اہلکاروں سے کہا:’میں بہت معذرت خواہ ہوں، میں جس لیے لڑ رہی ہوں وہ ایرانی خاتون کو میچ دیکھنے کے حقوق سے متعلق ہے، یہ میرا حق ہے کہ میں یہاں ہوں، یہ ایرانی خواتین کا بنیادی حق ہے۔‘

انھوں نے آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ’اس بات کی بار بار وضاحت کرنے سے تکلیف محسوس ہوتی ہے کہ یہ ایک پرامن اقدام ہے اور سیاسی پیغام نہیں، لیکن امن اور حقوق انسانی کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔‘

دریا صافی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ میں نے سارے میچ میں اپنا بینر اٹھائے رکھا، بینر اٹھائے میرے ہاتھ کانپ رہے تھے لیکن میں نے اس کو میچ کے اختتام تک اٹھائے رکھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ اس دوران ہر کوئی ان کی حمایت نہیں کر رہا تھا اور ان کے عقب میں بیٹھا ایک ایرانی ان پر چیخا بھی۔

دریا صافی کو 1999 میں حکومت مخالف احتجاج کرنے پر جیل میں ڈال دیا گیا تھا اور رہائی کے بعد وہ سال 2000 میں بیلجیئم منتقل ہو گئیں۔

اسی بارے میں