’یہ کیسی حکومت ہے جو دہشت گردی کے نظریے سے متاثر ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption نریندر مودی کی ڈیڑھ گھنٹے جاری رہنے والی تقریر میں کہیں بھی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری حکومت مخالف احتجاجی لہر کا براہِ راست ذکر نہیں تھا

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے یومِ آزادی کے موقع پر اپنے خطاب میں پاکستان پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں دہشت گردوں کے گنُ گائے جاتے ہیں اور وہاں کی حکومت دہشت گردی کے نظریے سے متاثر ہے۔

دہلی کے لال قلعے میں پیر کو منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت کے عوام نے اپنے لیے آواز اٹھانے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

٭ پاکستان کا یومِ آزادی’ کشمیریوں کی آزادی‘ کے نام

٭’پاکستان کو اب بلوچستان میں زیادتیوں کا جواب دینا ہوگا‘

نریندر مودی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شہر پشاور کے سکول پر دہشت گردوں کے حملے میں معصوم بچوں کی ہلاکت پر انڈیا کی پارلیمان اشک بار تھی اور پوری قوم نے ان بچوں کے لیے آنسو بہائے۔

’یہ ہماری انسانیت ہے لیکن دوسری طرف، جہاں دہشت گردوں کے گن گائے جائیں، دہشت گرد حملوں میں معصوم لوگوں کے مرنے پر جشن منائیں جاتے ہیں۔ یہ کس قسم کی دہشتگردی سے متحرک زندگی ہے۔ یہ کس طرح کی دہشت گردی کے نظریے سے متاثر حکومتی نظام ہے؟

انھوں نے کہا کہ ’جس طرح بلوچستان،گلگت اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے لوگوں نے میرا شکریہ ادا کیا ہے، میرے ملک کی ساری آبادی کا شکریہ ادا کیا ہے، میں بھی ان مشکور ہوں۔‘

یاد رہے کہ چند روز قبل نریندر مودی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان بلوچستان اور اپنے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے مبینہ زیادتیوں کا جواب دے۔

ان کے اس بیان پر پاکستان سے تو کوئی خیرمقدمی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا البتہ جلا وطن بلوچ رہنما براہمداغ بگٹی نے فیس بک پر جاری کیے گئے پیغام میں بلوچوں کے لیے آواز اُٹھانے پر انڈین عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کیا تھا۔

براہمداغ بگٹی نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستان کی مداخلت، پٹھان کوٹ اور ممبئی حملوں جیسے واقعات سے انڈیا میں پاکستان کی خفیہ سرگرمیاں کھل کر سامنے آئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ pib
Image caption مودی نے نے شدت پسندی میں ملوث نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ شدت پسندی کا راستہ ترک کر کے قومی دھارے میں شامل ہو جائیں

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ایسے میں عارضی ردعمل یا جوابی حکمتِ عملی کے طور پر بلوچوں کے لیے آواز اُٹھانے کے ساتھ ساتھ اُن کی مدد کے لیے سنجیدہ کاوشیں بھی انڈیا کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہونی چاہییں۔‘

نریندر مودی کی ڈیڑھ گھنٹے جاری رہنے والی تقریر میں کہیں بھی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری حکومت مخالف احتجاجی لہر کا براہِ راست ذکر نہیں تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’آج کہیں جنگلوں میں ماؤ واد کے نام پر، سرحد پر انتہا پسندی کے نام پر، پہاڑوں میں دہشتگردی کے نام پر کندھوں پر بندوقیں لے کر بےقصور لوگوں کو مارنے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے شدت پسندی میں ملوث نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ شدت پسندی کا راستہ ترک کر کے قومی دھارے میں شامل ہو جائیں۔

’میں ان نوجوانوں سے کہنا چاہتا ہوں یہ ملک تشدد کو کبھی برداشت نہیں کرے گا، یہ ملک دہشتگردی کو کبھی برداشت نہیں کرے گا، یہ ملک دہشت گردوں کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔میں ان نوجوانوں کو کہتا ہوں ابھی بھی وقت ہے لوٹ آئیے۔‘

مودی کا کہنا تھا کہ ’زمین خون سے سرخ ہو گئی لیکن دہشت گردی کے راستے پر جانے والے کچھ حاصل نہیں کر سکے۔‘

خیال رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ چند ہفتے سے جاری احتجاجی لہر میں 55 سے زیادہ افراد ہلاک اور دو ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں اور وادی میں گذشتہ چھ ہفتے سے کرفیو نافذ ہے۔

یہ احتجاجی لہر نوجوان علیحدگی پسند کمانڈر برہانی وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی ہے اور پیر کو انڈیا کا یومِ آزادی بھی کشمیر میں یومِ سیاہ کے طور پر منایا جا رہا ہے۔

پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے بھی گذشتہ روز ملک کے یومِ آزادی کو کشمیر میں جاری اس تحریک کے نام کیا تھا۔

اسی بارے میں