کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ سے چار افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری تشدد میں اب تک 62 افراد ہلاک جبکہ پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوام اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں مزید چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

سرینگر میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق یہ جھڑپیں بڈگام کے علاقے میں ہوئیں اور سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔

٭ ’ہر ماں ایک برہان پیدا کرے گی‘

٭ کشمیر میں یومِ سیاہ، سری نگر میں پولیس پر حملہ

ہلاک ہونے والے افراد پیر کو سری نگر میں ایک مظاہرے کے دوران پولیس سے تصادم میں ایک 16 سالہ لڑکے کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری تشدد میں اب تک 65 افراد ہلاک جبکہ پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

یہ احتجاجی لہر آٹھ جولائی کو نوجوان علیحدگی پسند رہنما برہان وانی کی فوج سے تصادم میں ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

منگل کو ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ جھڑپ مرکزی ریزرو پولیس فورس کے ایک دستے اور مظاہرین کے درمیان ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق یہ دستہ سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ کے انتخابی علاقے بیرواہ سے گزر رہا تھا کہ وہاں احتجاج کرنے والے افراد نے ان اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔

پتھراؤ کے جواب میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین پر گولی چلائی گئی جس سے چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔

تازہ ہلاکتوں کے بعد وادی میں سری نگر اور دیگر اہم علاقوں میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں جبکہ کرفیو بھی بدستور نافذ ہے۔

ادھر انڈیا کے وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ منگل کو کشمیر کی صورتحال پر بات چیت کے لیے قومی سلامتی کے مشیر سے ملاقات کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں