انڈیا: تہوار میں بچوں کے میناروں پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس تہوار کا نام دہی ہانڈی تہوار ہے اور یہ ہندوؤں کے خدا کرشنا کی سالگرہ پر منایا جاتا ہے

انڈیا کی سپریم کورٹ نے 18 سال سے کم عمر کے بچوں پر ممبئی کے مذہبی تہوار میں شرکت پر پابندی عائد کردی ہے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے بدھ کو آنے والے اس فیصلے میں بچوں کے اس تہوار میں شرکت کرنے کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

اس مذہبی تہوار میں بچے اہرام مصر نما انسانی مینار بناتے ہیں جس میں لوگوں کے نیچے گرنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے بیس فٹ سے زیادہ اونچائی کے انسانی میناروں پر بھی پابندی عائد کی ہے۔

جنماشتمی کے موقع پر ہونے والے اس تہوار میں ہر سال لوگ دہی سے بھرے مٹکے اونچائی پر لٹکاتے ہیں اور اس تک پہنچنے کے لیے انسانی مینار بنائے جاتے ہیں۔

اس تہوار کا نام دہی ہانڈی تہوار ہے اور یہ ہندوؤں کے دیوتا کرشنا کی سالگرہ پر منایا جاتا ہے۔

ہندو مذہبی ادب کے مطابق کرشنا کو دودھ اور دہی سے بنی کھانے کی اشیا پسند تھیں اور وہ اکثر اپنے بھائی کے کندھوں پر چڑھ کر مکھن کے چھپے ہوئے مٹکوں کو نیچے اتارتے تھے۔

ہر سال ممبئی میں بہت سی ٹیمیں سب سے اونچا انسانی مینار بنانے کے لیے آپس میں مقابلہ کرتی ہیں۔ اس میں اکثر بچوں کو اوپر چڑھایا جاتا ہے۔

تاہم حالیہ عرصے میں لوگوں کے زخمی ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور بہت سے حادثات دیکھے گئے ہیں. گذشتہ برس تہوار کے دوران ایک آدمی ہلاک ہوا اور سو سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں