تلخی کے ایک نئے خطرناک باب کا آغاز؟

Image caption انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کئی ہفتوں سے مظاہرہ اور کرفیو جاری ہے

انڈیا اور پاکستان دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور کشمیر ان کی کمزوری ہے۔

پاکستان اعلانیہ کہتا ہے کہ وہ کشمیر میں جاری علیحدگی پسند تحریک کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کرتا ہے، انڈیا کا دعویٰ ہے کہ بات صرف اخلاقی حمایت پر ختم نہیں ہوتی۔

اس لیے انڈیا کی وفاقی حکومت کا یہ اعلان کہ وہ اب بلوچستان، گلگت، بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت پاکستان کی جانب سے کی جانے والی مبینہ زیادتیوں کو دنیا کے سامنے پیش کرے گی، باہمی رشتوں میں تلخی کے ایک نئے خطرناک باب کا آغاز ہے۔

لیکن اس مجوزہ حکمت عملی کے کیا ممکنہ نتائج ہوں گے، اس پر انڈیا میں رائے تقسیم ہے۔

ایک طرف وہ ہیں جن کا کہنا ہے کہ پاکستان سے ’اسی کی زبان میں‘ بات کی جانی چاہیے اور دوسری طرف وہ ہیں جن کا کہنا ہے کہ بات ہاتھ سے نکل بھی سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں ایک حلقہ پاکستان کے حق میں ہے

ان میں سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید بھی شامل ہیں جنھوں نے وزیر اعظم مودی کے بیان کے فوراً بعد کہا کہ وزیر اعظم کو کھلے عام اس انداز میں بلوچستان کا ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ ’بلوچستان پاکستان کا داخلی معاملہ ہے‘ اور اس سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر انڈیا کا دعویٰ کمزور ہوگا۔

کانگریس پارٹی نے پہلے تو ان کے اس موقف کو مسترد کیا۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن اب لگتا ہے کہ پارٹی وزیر اعظم کے بیان سے فاصلہ اختیار کر رہی ہے۔

اب اس کا کہنا ہےکہ مودی اپنی حکومت کی کوتاہیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اوراس وقت ضروت وادئ کشمیر کے زخموں پر مرہم لگانے کی ہے۔

بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ وزیر اعظم کے بیان سے پاکستان کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ انڈیا بلوچ قوم پرستوں کی مدد کر رہا ہے۔

مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس خارجہ پالیسی سے پاکستان کے لیے کشمیر کا مسئلہ بین الاقوای فورمز پر اٹھانا آسان ہو جائے گا۔

Image caption حالیہ پرتشدد واقعات میں درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں

سابق سفارتکاروں کی رائے بھی منقسم ہے۔ سابق خارجہ سیکریٹری شیام شرن نے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کشمیر کی حالیہ صورتحال پریہ مودی کا ردعمل ہے۔۔۔لیکن سوال یہ ہے کہ آپ کس حد تک جاسکتے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ اس پالیسی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔‘

دوسرے نظریے کی عکاسی سابق خارجہ سیکریٹری للت مان سنگھ کرتے ہیں جنھوں نے انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک نئی جارحانہ حکمت عملی ہے، بنیادی طور پر پاکستان کے لیے یہ پیغام ہے کہ جو لوگ خود کانچ کے گھروں میں رہتے ہوں، انھیں دوسروں کے گھروں پر پتھر نہیں پھینکنے چاہییں۔‘

کشمیر میں حالات بدستور تشویش ناک ہیں اور وہاں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 65 تک پہنچ گئی ہے اور یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ حکومت نے وہاں جس سیاسی عمل یا فریقین سے مذاکرات کا جو وعدہ کیا تھا، وہ کب شروع ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی کے حالیہ خطاب پر تجزیہ نگاروں کی آرا منقسم ہیں

اس پس منظر میں تجزیہ کار اور سینیئر صحافی پروین سوامی نے لکھا ہے کہ ’سخت گیر موقف رکھنے والے لوگ چاہیں گے کہ انڈیا پاکستان کے لیے بلوچستان میں مشکلات پیدا کرے، لیکن یہ زیادہ سمجھداری کی بات نہیں ہے۔ ایک تو یہ واضح نہیں کہ اس کا فائدہ کیا ہوگا، کیونکہ جواب میں پاکستان کشمیر میں اپنی سرگرمیاں بڑھا سکتا ہے اور دوسرا یہ کہ انڈیا بلوچستان میں تو شورش پیدا کر سکتا ہے لیکن بدلے میں اسے کشمیر میں درد ہی ملے گا، امن نہیں۔‘

ہو سکتا ہے کہ یہ سب صرف بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہو۔ جیسا کہ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ’کہنے سے کچھ نہیں بدلتا، دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ کرتے کیا ہیں۔‘

اب جو بھی ہو لیکن بات چیت دوبارہ آسانی سے شروع ہوتی نظر نہیں آتی۔

اسی بارے میں