’ہم نے بیٹا کھو دیا، لیکن اللہ ساتھ ہے‘

Image caption برہان کے والد مظفّر وانی کا خیال ہے کہ اگر ان کا بیٹا غلط ہوتا تو اتنی بڑی تعداد میں لوگ اس کی حمایت میں سڑکوں پر نہ نکلتے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں رواں برس جولائی میں ایک تصادم میں مارے گئے نوجوان عسکریت پسند برہان وانی کے والدین کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے بیٹے کی ہلاکت کا کوئی غم نہیں ہے۔

انڈین سکیورٹی فورسز کا دعویٰ ہے کہ برہان وانی شدت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے مقامی کمانڈر تھے اور انھیں کافی عرصے سے ان کی تلاش تھی۔

سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے برہان وانی کی موت کے بعد سے کشمیر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے برہان وانی کی موت کے بعد سے کشمیر میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا

وادی کشمیر میں کرفیو کو 40 دن سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اس دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 60 سے زیادہ لوگوں کی جان جا چکی ہے اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

چھرّے لگنے کے سبب بہت سے لوگوں کی بینائی چلی گئی ہے۔ مظاہروں میں مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ کچھ سکیورٹی فورسز کے لوگ بھی زخمی ہوئے ہیں۔

برہان کی ماں میمونہ وانی اور والد مظفر وانی کہتے ہیں: ’ہمیں اپنے بیٹے کے شہید ہونے کی خوشی ہے۔‘

بی بی سی سے بات چیت میں میمونہ نے کہا: ’بیٹے کی ہلاکت کا دکھ تو ہے لیکن سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ کشمیر پر ظلم ہو رہا ہے اور میرے بیٹے نے کشمیر کی آزادی کے لیے قدم اٹھایا۔ وہ بہت ہینڈسم لڑکا تھا۔ بہت ہی شریف اور نرم دل۔ قتل و غارت گری میں تو یقین ہی نہیں کرتا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا نے کشمیر میں فوج اور نیم فوجی دستوں کی پوری طاقت لگا رکھی ہے لیکن کرفیو کے باوجود گذشتہ 40 روز سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

میمونہ وانی کہتی ہیں: ’جہاد کی طرف جانے کے بارے میں اس سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ جہاد تو ہم پر فرض ہے۔ جب دنیا سے جائیں گے تو اللہ پوچھے گا کہ میرے لیے کیا کیا؟ جب بیٹا جوان ہوا تو ہم نے اللہ کی راہ پر جانے دیا۔ برہان جب اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا تو بتائے گا کہ جب میں 15 برس کا تھا تب گھر سے نکلا۔ میں نے اپنی جان دی۔‘

برہان کے والدین کا خیال ہے کہ اگر ان کا بیٹا غلط ہوتا تو اتنی بڑی تعداد میں لوگ حمایت میں سڑکوں پر نہ نکلتے۔

ان کی والدہ کہتی ہیں: ’ایک بیٹا چلا گیا تھا، اب دوسرا بھی چلا گیا۔ لیکن پکّا مسلمان تو وہی ہے جو اللہ سے محبت کرتا ہے جو ایسا نہیں کرتا وہ مکمل مسلمان نہیں۔ وہ مومن نہیں ہوتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وہ رندھے گلے سے کہتی ہیں: ’ہم نے بیٹا کھو دیا، لیکن اللہ ساتھ ہے۔ ہمیں اس پر پورا بھروسہ ہے۔ جب 2010 میں وادی میں مظاہرے ہو رہے تھے تو بیٹے کا فون آیا۔ اس وقت میں نماز کے لیے کھڑی ہو رہی تھی۔ اس نے پوچھا کہ اللہ سے میرے لیے کیا دعا کرو گی؟ میں نے کہا یہی کہ اللہ میرے بیٹے کو بہترین ڈاکٹر انجینیئر بنانے میں مدد کرے۔ تب اس نے کہا، اللہ سے دعا کرنا کہ میرا بیٹا مجاہد بنے۔‘

میمونہ کہتی ہیں: ’کسی نے کسی کو نہیں کہا کہ گھر سے نکلو، لیکن جب برہان گیا تو لوگ گھروں سے نکل پڑے۔ بس یہ اللہ تعالی کا کرم ہے۔‘

برہان وانی کے والد مظفر وانی کہتے ہیں: ’میرا بیٹا شہید ہوا تو میں بہت خوش ہوں اور لوگوں نے جو محبت دکھائی وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کتنا پیار کرتے تھے۔ اس نے جس مسئلے کے لیے اپنی جان دی، اس کے لیے ہر کوئی اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں اب تک ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں تقریباً 65 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں

مظفر وانی کا خیال ہے کہ کشمیری عوام اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

میمونہ وانی کا کہنا تھا کہ ’یہاں ایسا کوئی نوجوان نہیں ہے جسے انڈین فوج نے مارا پیٹا نہ ہو۔ بہت سی عورتیں بیوہ ہوگئیں، ان کے شوہر شہید ہو گئے۔ جب یہ سب اتنا بڑھ گیا تو ہم سب لوگ جمع ہو کر آزادی کے لیے گھر سے باہر نکل آئے۔‘'

اسی بارے میں