پتنگ بازی کو محفوظ بنانا ایک بڑا چیلینج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا اور پاکستان جیسے ملکوں میں پتنگ بازی ایک مقبول کھیل ہے

انڈیا اور پاکستان جیسے ملکوں میں پتنگ بازی ایک مقبول کھیل ہے۔ ایک وقت میں تو اس کے بڑے بڑے مقابلے ہوتے تھے اور لوگ ایک دوسرے کی پتنگ کاٹنے کے لیے آسمان میں ہی اپنی پتنگوں سے ہی خظرناک لڑائیاں لڑا کرتے تھے۔

لیکن اب پتنگ بازی کا شمار بھی خطرناک مشغلوں میں ہونے لگا ہے اور پاکستان اور انڈیا دونوں جگہ اس میں استعمال ہونے والی ڈور سے ہلاکتوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

گجرات میں پتنگ بازی کے ایک کلب کے بانی میہول پاتھک کہتے ہیں کہ ’اب بہت سے لوگوں کے لیے پتنگ بازی تفریحی کھیل نہیں رہا۔ پتنگ اڑانے والے اب خطرناک قسم کا مانجھا استعمال کرتے ہیں اور روایتی سوتی دھاگہ بھول چکے ہیں۔‘

آج کل پتنگ اڑانے کے لیے استعمال میں آنے والے مانجھے پر دھات یا پسا ہوا کانچ چڑھا ہوتا ہے تاکہ مخالف شخص کی پتنگ کو اس کی مدد سے جلدی کاٹا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انڈیا کی بہت سی ریاستوں میں پتنگ بازی پر پابندی عائد ہے

گذشتہ چند برسوں سے بہت سے پتنگ بازوں نے شیشہ لگا ہوا نائلن کا دھاگہ بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جو روایتی دھاگے کے مقابلے میں بہت مضبوط ہونے کے ساتھ ہی خطرناک بھی ہوتا ہے۔

اور اس قسم کے مانجھے مہلک ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کے راہ گیروں یا موٹرسائیکل پر سوار لوگوں کے گلے پر پِھر جانے سے ان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

اس ہفتے میں اس طرح کے مانجھے سے دہلی میں جن دو بچوں کی موت واقع ہوئی وہ اپنی گاڑی کی کھڑی سے باہر دیکھ رہے تھے کہ پتنگ کی ڈور نے ان کی زندگی کی ڈور ہی کاٹ دی۔

کئی بار ایسے کیمیکل مانجھے بجلی کے تاروں پرگرتے ہیں جس سے پتنگ اڑانے والے کو بجلی کا کرنٹ لگتا ہے اور اس سے بھی ان کی جان چلی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption آج کل پتنگ اڑانے کے لیے استعمال میں آنے والے مانجھے پر دھات یا پیسہ ہوا کانچ چڑھا ہوتا ہے تاکہ مخالف شخص کی پتنگ کو اس کی مدد سے جلدی کاٹا جا سکے

لیکن پتنگ اڑانے میں اس کا مانجھا ہی خطرناک ہی ہے۔ کئی بار پتنگ اڑانے والے لوگ اس میں اتنے محو ہوتے ہیں کہ بے خیالی میں پتنگ اڑاتے اڑاتے چھت سے نیچے گر جاتے ہیں۔

اس کا ایک پہلو کٹی پتنگ کا لوٹنا بھی ہے۔ کٹی پتنگوں کا پیچھا کرنے والے لڑکوں کے گروہ کئی بار ٹریفک کا نظام تک درہم برہم کر کے رکھ دیتے ہیں۔

گذشتہ پیر کو مانجھے سے ہونے والی اموات کے بعد سے لوگوں میں اس طرح کے مانجھے کی خرید و فروخت پر غصہ پایا جاتا ہے۔ لیکن سچ بات تو یہ ہے کہ ایسا تقریبا ہر برس ہوتا آیا ہے۔

اس سے قبل چنئی میں پتنگ بازوں نے اسی طرح کا مانجھا استعمال کیا تھا اور وہاں گذشتہ تین برسوں میں چار افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد پولیس نے ایسے مانجھے سے پتنگ بازی پر پابندی عائد کر دی تھی۔

پتنگ بازی کو محفوظ بنانے کے لیے کئی طرح کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں اور کئی بار اس پر پوری طرح سے پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Salman Saeed
Image caption پاکستان اور انڈیا میں پتنگ بازی میں مہلک ڈور کے استعمال کے باعث کئی ہلاکتیں ہو چکی ہیں

پاکستان میں پنجاب سمیت کئی علاقوں میں پتنگ بازی پر کئی برس سے پابندی عائد ہے اور پولیس ہر سال بڑی تعداد میں پتنگ بازوں کو گرفتار کر کے ہزاروں کی تعداد میں پتنگیں ضبط کرتی ہے۔

انڈیا میں بھی پنجاب، مہاراشٹر اور گجرات جیسی ریاستوں میں اس طرح کے مانجھے سے پتنگ اڑانے پر پہلے ہی سے پابندی عائد ہے۔

دارالحکومت دہلی میں بھی اسی طرح کا ایک قانون موجود ہے جس کے مطابق ایسی پتنگ بازی پر پابندی عائد ہے جس سے کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ ROHIT GHOSH
Image caption انڈیا میں پولیس کی جانب سے ایسے پروگرامز بھی چلائے گئے جن کی مدد سے لوگوں کو بتایا گیا کہ وہ کیسے محفوظ انداز میں پتنگ بازی کر سکتے ہیں؟

لیکن اس طرح کے قوانین کا نفاذ جہاں مشکل ہے وہیں بہت سے لوگ ایسے مانجھے اور پتنگیں اب خود اپنے گھر پر تیار کر لیتے ہیں۔

ایسے لوگوں کا سراغ لگانا بھی مشکل ہے کہ ہلاکت کی وجہ بننے والی ڈور کس کی تھی یا کس کی لاپرواہی سے وہ سڑک پر لٹک رہی تھی اور کسی کو ہلاک یا زخمی کرنے کی وجہ بنی۔

تو پتنگ بازی کا کھیل جہاں یونہی لوگوں میں مقبول رہے گا وہیں اس کو محفوظ بنانا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہی رہے گا۔

اسی بارے میں