سوال انسانی حقوق کا، مقدمہ ملک سے غداری کا

تصویر کے کاپی رائٹ OTHER
Image caption انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں تشدد کے واقعات میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

حقوقِ انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے انڈیا کے شہر بنگلور میں اپنا دفتر سکیورٹی خدشات کےسبب بند کررکھا ہے۔ ہندو نظریاتی تنظیم سے وابستہ کارکنوں نے جمعے کو تنظیم کے دفتر پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ سخت گیر ہندو طلبہ کی تنظیم کی ایک شکایت پر مقامی پولیس نے ایمنسٹی انٹر نیشنل کے خلاف انڈیا سے بغاوت اور غداری کا مقدمہ درج کیا ہے۔

٭ انڈیا میں انصاف عام آدمی کی پہنچ سے باہر

٭دلوتوں کی ہندو توا کو للکار

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انڈیا کے زیر انتطام کمشیر میں حقوق انسانی کی پامالیوں کے بعض متاثرین کو انصاف دلانے کی اپنی مہم کےتحت بنگلور میں گذشتہ دنوں ایک پروگرام کا انعقاد کیا تھا۔

ہندو قوم پرست تنظیموں کی جانب سے پولیس میں درج کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پروگرام میں انڈیا مخالف نعرے لگائے گئے۔ انھوں نےتنظیم کے کئی عہدیداروں پر بھی ملک مخالف نعرے لگانے کا الزام لگایا ہے۔

ایمنسٹی نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایمنسٹی کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جانا انڈیا میں اظہار کی آزادی اور بنیادی حقوق کے تصور میں گھٹتے ہوئے یقین کاغماز ہے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

ایمنسٹی انٹرنیشل کے سربراہ آکار پٹیل نے کہا ہے کہ آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے منعقد کیے جانے والے پروگرام کو اب ملک دشمن اور مجرمانہ فعل قرار دیا جانے لگا ہے۔

انھوں نےکہا کہ ایمنسٹی کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جانا انڈیا میں اظہار کی آزادی اور بنیادی حقوق کے تصور میں گھٹتے ہوئے یقین کا غماز ہے۔

ایمنسٹی انٹر نیشل حقوقِ انسانی کے بنیادی تصور کے نفاذ کے لیے پوری دنیا میں کام کر رہی ہے۔ اسے اکثر مخالفتوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گذشتہ ہفتے چھتیس گڑھ میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ایک انجینیئر کو ایک سخت گیر ہندو تنظیم کی شکایت پر پولیس نے غداری کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

انھوں نے فیس بک پر مبینہ طور پر کچھ ایسے پیغامات شیئر اور لائک کیے تھے جو علیحدگی پسندی کی حمایت میں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غداری کے زیادہ تر مقدمات ہندو تنطیموں کی شکایات پر درج کیے گئے ہیں

اطلاعات کے مطابق رواں سال کے ابتدائی تین مہینوں میں 19 افراد کےخلاف غداری کےمقدمات درج کیے گئے۔ ان میں تمل ناڈو کے ایک لوک گلوکار اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ لیڈر بھی شامل ہیں۔ بیشتر مقدمات ہندو تنطیموں کی شکایات پر درج کیے گئے ہیں۔

غداری اور ملک سے بغاوت ایک سنگین الزام ہے۔ یہ قانون برطانوی سامراج نے آزادی کی تحریک کچلنے کے لیے بنایا تھا اور اس کا استعمال آزادی کےاعلیٰ رہنماؤں کو قید کرنےاور ان کی آواز دبانے کے لیے کیا جاتا تھا۔ لیکن جس تیزی سےاس کا استعمال اس وقت انڈیامیں ہو رہا ہے وہ سول سوسائٹی اور حقوقِ انسانی کےعلمبرداروں کے لیے کافی پریشان کن ہے۔

پریشان کن اس لیے بھی کیونکہ اس قانون کا استعمال ان لوگوں کےخلاف کیا جا رہا ہے جو حکومت اور اس کی ہمنوا ہندو نظریاتی تنظیموں کی بہت سی پالیسیوں اور تصورات سے متفق نہیں ہیں اور جو متبادل رائے رکھتے ہیں ان سبھی کو اس قانون کےذریعے ملک کا دشمن قرار دیاجاتا ہے ۔

ایمنسٹی انٹرنیشل ایک غیر جانبدار ادارہ ہے اور اس نے ایک جمہوری ملک کی آئینی روایات اور انسانی حقوق کی اقدار کو اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اب اسے ملک دشمن سرگرمیوں کے الزام کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اقوامِ متحدہ نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ مزید تشدد کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی

سول سوسائٹی اور حقوق انسانی کی تنظیمیں کشمیر میں حقوق انسانی کے سوال پر اس مسئلے کی پیچیدہ اور حساس نوعیت کے سبب ہمیشہ محتاط رہی ہیں۔

ٹیلی ویژن اور اخبارات میں بھی بیشتر بحث ومباحثے حکومت کی پالیسیوں اور سکیورٹی فورسز کی ستائش پر مرکوز ہوتے ہیں۔ سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ اسی حساس رویے کےسبب وادی میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور حقوقِ انسانی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے سوال پر انڈیا کے کسی کونے میں کوئی مظاہرہ نہیں ہوتا، کوئی سوال نہیں کیا جاتا، کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آخر لاکھوں لوگ 40 دنوں سے جاری کرفیو میں کس طرح جی رہے ہیں؟

حکمراں طبقے کے بہت سے لوگوں کے لیے یہ سوالات انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے نہیں ہیں بلکہ یہ سوالات ملک کےخلاف ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں کشمیر میں سکیورٹی فور‎سز ایسے لوگوں کےخلاف نبرد آزما ہیں جو انڈیاکے خلاف ہیں۔

انڈیا کی سب سے بڑی طاقت اس کا جمہوری آئین، بنیادی حقوق پر اس کا یقین اور انسانی اقدار کے حوالے سے اس کی عظیم روایات ہیں۔ جمہوریت پسند شہری اور سول سوسائٹی جب ذہنی گھٹن سےگزرنے لگیں اور جب شہریوں کو اپنےدرد کے اظہار میں خوف محسوس ہونے لگے تو پھر یہ حکومتِ وقت کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے گہرائی سےسوچنے کا وقت ہے۔

اسی بارے میں