’قندوز کے اہم ضلعے پر افغان حکومت کا دوبارہ کنٹرول‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغان سکیورٹی فورسز ملک کے 34 صوبوں میں سے نصف میں باغیوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں

افغانستان کے شمالی صوبے قندوز کے گورنر نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان فورسز نے ضلع خان آباد پر سے طالبان کا قبضہ چھڑا لیا ہے۔

قندوز کے گورنر اسد اللہ عمر خیل نے یہ دعویٰ طالبان کی جانب سے خان آباد پر قبضے کیے جانے کے چند گھنٹے بعد کیا۔

* قندوز میں طالبان نے 35 مسافر اغوا کر لیے

* طالبان کا ’مقاصد کے حصول‘ کے بعد قندوز سے نکلنے کا اعلان

تاہم مقامی افراد ے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ضلعی ہیڈ کوارٹر کے قریب اب بھی طالبان موجود ہیں۔

اس سے قبل افغانستان میں حکام کا کہنا تھا کہ طالبان عسکریت پسندوں نے شمالی صوبے قندوز کے ایک اہم ضلعے پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

جنگجوؤں نے کئی جانب سے ایک ساتھ حملہ کیا اور حکومتی فورسز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ قندوز گذشتہ برس بھی طالبان کے قبضے میں آ گیا تھا۔

مقامی حکام کا کہنا تھا کہ گولہ بارود اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی کمی کی وجہ سے خان آباد ضلع طالبان کے ہاتھوں میں چلا گیا۔

سنہ 2014 میں بین الاقوامی فوجوں کے انخلا کے بعد سے طالبان نے ایک بار پھر ملک کے مختلف حصوں میں کئی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

افغان سکیورٹی فورسز ملک کے 34 صوبوں میں سے نصف میں باغیوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہے۔

چند دن قبل طالبان نے قریبی صوبے بغلان کے ایک ضلعے پر قبضے کر لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طالبان نے فوجی گاڑیوں اور اسلحے پر بھی قبضے کر لیا ہے

خان آباد کے ضلعی منتظم حیات اللہ امیری نے خبر رساں ادارے روئٹرز کوبتایا کہ ’طالبان نے مختلف جگہوں سے حملہ کیا تھا ہم نے کئی گھنٹوں تک مزاحمت کی لیکن ہمیں کوئی مدد نہیں ملی۔‘

خبر رساں ادارے اپ پی کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے پورے ضلعے کے علاوہ اسلحے اور فوجی گاڑیوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔‘

ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے قندوز کی صوبائی کونسل کے سربراہ محمد یوسف ایوبی کا کہنا تھا ’اگر مرکزی حکومت نے اس طرف توجہ نہ کی تو قندوز شہر بھی گذشتہ برس کی طرح ایک بار پھر طالبان کے قبضے میں چلا جائے گا۔ ‘

اسی بارے میں