’دال کرتی ہے عرض یوں احوال‘

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption دال دنیا بھر کے تقریباً تمام علاقوں میں شوق سے کھائی جاتی ہے

ایک عام کہاوت ہے، ’دال روٹی کھاؤ پربھو کے گن گاؤ،‘ لیکن آج جب انڈیا میں دال کی قیمت آسمان چھو رہی ہے تو یہ کہاوت بےمعنی لگتی ہے۔

کبھی گھر آنے والے مہمانوں کو بڑی انکساری کے ساتھ کہا جاتا تھا: ’دال روٹی کھا کر جائیے گا۔‘ آج بڑی رعونت کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ ’گھر میں دال پکی ہے۔‘

آج دسترخوان پر دال کی موجودگی غربت کا نہیں بلکہ امارت کا نشان ہے۔

٭ ’کھانا آگ اور پانی کا کھیل ہے‘

٭ گرمیوں کے پکوان: سلمیٰ حسین کے ساتھ بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو

٭ پان:’خداداد خوبیوں کا مالک سادہ سا پتہ‘

٭ لکھنؤ: نوابوں کی سرزمین کے ذائقے

٭ ’بارے آموں کا کچھ بیاں ہو جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption مٹھائیوں میں بھی دال کا خاص استعمال ہے

اناج کا یہ چھوٹا سا بیج بڑی خوبیوں کا مالک ہے۔ بچے اور بوڑھوں کی یکساں پسند، خاص و عام کی ضرورت، کئی امراض کا علاج اور دسترخوان کی زینت۔

دالیں دنیا کے تقریباً تمام حصوں میں کاشت کی جاتی ہیں اور انھیں انسانی خوراک میں اہم مقام حاصل ہے۔ جہاں لوگوں کی اکثریت سبزی خور ہے وہاں غذا کا بڑا حصہ اناج اور دالوں پر مشتمل ہے۔ دالوں میں پائی جانے والی پروٹین تندرستی کا ضامن ہے۔ یہ کم خرچ لوگوں کی ضرورت کو پورا کرتی ہے اس لیے اسے غریبوں کے لیے گوشت کا درجہ حاصل ہے۔

برصغیر میں اس کا سالن اور چپاتی غریبوں کا من بھاتا کھاجا ہے۔ دال ان غذاؤں میں شامل ہے جن کی خاطر من و سلویٰ کو ٹھکرا دیا گيا تھا اور عوام الناس نے حضرت موسیٰ سے مطالبہ کیا تھا کہ انھیں آسمانی من و سلویٰ کے مقابلے پر وہ چیزیں دی جائیں جو زمین پر پیدا ہوتی ہیں۔ ان کے مطالبے میں کھیرا، ساگ کے علاوہ مسور کی دال بھی شامل تھی۔

دنیا کے کچھ ممالک میں اسے خوش نصیبی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اطالوی روایات کے مطابق نیا سال دال اور ساسیج کھا کر منایا جاتا ہے۔ دال چونکہ سکّوں کی طرح گول ہوتی ہے اس لیے اسے دولت کی فراوانی کی علامت اور ساسیج کو کامیابی اور خوشحالی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اسی طرح جنوبی امریکہ میں دال چاول اور گوشت کے پکوان سے نئے سال کا آغاز کیا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں مصر کے مقابر میں بھی دال کے اثرات پائے گئے ہیں یعنی دفناتے وقت قبر میں دال بھی رکھی جاتی تھی۔

18ویں صدی میں فرانسیسی شہنشاہ لوئی پنج دہم کی ملکہ ماریا نے شاہی دسترخوان پر دال کو فوقیت دی اور وہ ملکۂ دال کہلائیں۔ شاید یہ وہی مسور کی دال ہے جسے ہم آپ ’ملکہ مسور‘ کہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ravi Prakash
Image caption ایک زمانے میں دال کو غریبوں کی غذا کہا جاتا تھا لیکن اب بازی الٹ گئی ہے

غذائیت کے لحاظ سے دالوں میں سب سے اچھی دال مسور کی ہے اور اسے دنیا کے ہر خطے میں کسی نہ کسی طور پسند کیا جاتا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے مسور کی دال دل کو سبک اور نرم کرتی ہے اور آنکھ سے پانی کے اخراج کو کم کرتی ہے۔ نہ صرف مسور کی دال بلکہ ہر قسم کی دالیں بہت سی بیماریوں کا علاج ہیں۔

ہندوستان کے مشرقی حصے چھتیس گڑھ کے علاقے میں کلتھی (یا کرتھی) دال کی کاشت کو دوسری دالوں پر فوقیت حاصل ہے۔

کلتھی دال کا استعمال عام طور پر کم ہے لیکن اس کی طبی خوبیوں سے انکار نہیں۔ اسے روایتی طب میں گردے یا مثانے کی پتھری کا شافی علاج تصور کیا جاتا تھا۔

دال کی خوبیوں اور اعلیٰ صفات کا ذکر تو کیا جاتا ہے لیکن اس غریب دال کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ مولانا اسمٰعیل میرٹھی نے دال کی فریاد یوں بیان کی ہے:

ایک لڑکی بگھارتی ہے دال: دال کہتی ہے کہ میں کبھی ہرے بھرے کھیتوں میں لہلہاتی تھی، ایک دن مجھے گھسیٹ کر اندھیری کوٹھری میں بند کر دیا گیا۔ مار کوٹ کر میرا سبز لباس اتار دیا گیا اور بوروں میں بھر کر بازار میں بيچ دیا گيا۔ وہاں سے تم مجھے لے آئيں۔ تم نے اور قیامت ڈھائی۔ پہلے پکایا، میرا جسم جلایا، میرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے، اور پھر گرم گرم تیل اور مرچوں سے میرے وجود کو ختم کر دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ ashwin aghor
Image caption دال کو بوروں میں بھر کر تنگ تاریک گوداموں میں رکھ دیا جاتا ہے

لڑکی نے جب دال کی یہ فریاد سنی تو اس نے فوراً دال کی کڑھائی کو چولھے سے اتار دیا۔ لیکن کیا اس روداد کے بعد بھی دال سے کنارہ کشی ممکن ہے؟

امریکہ کے بعض علاقوں میں ہر سال بڑے کروفر سے دال کا میلہ منایا جاتا ہے۔ میلے کی ڈائرکٹر اینڈرسن ایلکس کا کہنا ہے کہ اس کی تیاری سال بھر ہوتی رہتی ہے اور ہفتے بھر دال کے گن گائے جاتے ہیں۔ اس میں نہ صرف صارفین بلکہ کاشت کار اور دال بیچنے والے بھی شرکت کرتے ہیں۔

میلے کے دوران مختلف اقسام کی دال کی دکانوں کے علاوہ دال سے بنے پکوان، دال پکانے کے مقابلے، بچوں کے لیے دال کی خاص غذائیں، شراب کے ساتھ دال کے کباب، دال کی رانی اور راجہ کا انتخاب ہوتا ہے۔ الغرض دال کا یہ میلہ اپنے آپ میں انوکھا ہے اور وہاں کے لوگوں کے لیے تفریح کا سامان بھی۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں جس کی یہ دسویں کڑی ہے۔

اسی بارے میں