کشمیری بچے کرفیو میں کیسے پڑھتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے زیادہ تر حصے میں تشدد اور کرفیو کی وجہ سے سکول بند پڑے ہیں۔ لیکن کچھ رضا کاروں نے اپنے گھروں اور محلے کی مساجد میں عارضی سکول کھول لیے ہیں تاکہ بچوں کی تعلیم جاری رہے۔

فوٹو گرافر عابد بھٹ نے ان عارضی سکولوں کا دورہ کیا اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ بدامنی کے درمیان بچے کس طرح تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد واقعات میں اب تک 60 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں زیادہ تر کشمیری نوجوان ہیں جبکہ کئی ہزار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhat

کشمیر پر انڈیا اور پاکستان دونوں دعویٰ کرتے ہیں اور گذشتہ 60 سالوں سے یہ شہ سرخیوں میں رہا ہے اور اس پر دونوں ممالک کے درمیان دو بار جنگ بھی ہوچکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhat

اس مسلم اکثریتی علاقے میں کچھ شدت پسند تنظیموں نے بھارتی حکومت سے آزادی یا پاکستان میں شامل ہونے کے لیے ہتھیار اٹھا لیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhat

باقاعدہ تعلیم کی غیر موجودگی میں بچے دور دور سے تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhat

تابي دوسری جماعت کی طالبہ ہیں اور تشدد کی ابتدا سے ہی ان کا سکول بند ہے۔

ان کے والد صبح کی کلاس کے لیے انھیں سائیکل پر یہاں لے آتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhat

وہ کہتی ہیں کہ انھیں اپنے سکول کی بہت یاد آتی ہے لیکن "وہ اب اپنے نئے استاد اور دوستوں سے گھل مل گئی ہیں."

سرینگر کے ریناواڑي علاقے کی مسجد میں 200 طالب علموں کو رضاکار ٹیچر پڑھاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abid bhat

باقاعدہ تعلیم کے علاوہ، بچے انجینیئرنگ اور میڈیکل جیسے مشکل مضامین بھی پروفیشنل ٹيوٹرز سے پڑھ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

مسجد کی انتظامیہ نے اس سکول کی ابتدا اس وقت کی جب 20 نوجوانوں رضاکارانہ طور پر یہاں پڑھانے کے لیے ہامی بھر لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhat

میز، کرسیاں اور ضروری پیسے چندے سے جمع کیے جاتے ہیں۔

مظاہروں کی وجہ سے بند پڑے بعض سرکاری سکولوں نے بھی ان عارضی سکولوں کو اپنے فرنیچر دیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhat

زیادہ تر بچوں کو ان عارضی سکولوں تک پہنچنے کےسخت سکیورٹی ناکوں کے درمیان سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے۔

کچھ یہاں پڑھنے اور گھر جاتے وقت گروپس کی شکل میں رہتے ہیں اور ایسے راستے کا انتخاب کرتے ہیں جہاں سکیورٹی فورسز کم ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Abid Bhat

رضاکار کہتے ہیں کہ متبادل سکول بنانے میں انھیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

انھی رضاکاروں میں سے ایک خالد کا کہنا ہے: ’متبادل تعلیم کا خیال اچانک پیدا نہیں ہوا، ہم نے طلبہ کے لیے سروے کیا، ان کے کلاسوں کے بارے میں معلومات حاصل کی اور ان کے لیے ٹیچر تلاش کیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

کچھ متبادل سکول تو شادی گھروں میں چل رہے ہیں کیونکہ زیادہ تر لوگوں نے مظاہرے کی وجہ سے شادیاں منسوخ کر دی ہیں۔

اسی بارے میں