کابل:امریکن یونیورسٹی پر حملہ، سات طلبہ سمیت 13 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

افغانستان میں پولیس کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل کے مرکز میں واقع امریکن یونیورسٹی پر حملے میں سات طلبہ سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 10 گھنٹوں کے آپریشن کے بعد سکیورٹی فورسز نے دو حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔

یہ حملہ بدھ کی شام کو کیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کے طلبہ اور سٹاف اس حملے کے دوران محصور ہو گئے تھے۔

ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اس حملے میں سات طلبہ کے علاوہ تین پولیس اہلکار اور تین گارڈز بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

کابل پولیس کے سربراہ عبدالرحمان رحیمی نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے میں 35 طلبہ اور نو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ 750 طلبہ اور سٹاف کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ مقامی وقت شام سات بجے کیا گیا اور یہ ایک ’پیچیدہ‘ حملہ تھا۔ سپیشل فورسز اور امریکی فوجی مشیر جائے وقوعہ پر موجود تھے۔

یونیورسٹی کے اندر مسعود حسینی بھی موجود تھے جو پلٹزر ایوارڈ یافتہ فوٹو جرنلسٹ ہیں نے مدد کے لیے ٹویٹ کی۔

یونیورسٹی سے بھاگ نکلنے کے بعد انھوں نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ وہ ایک کلاس روم میں 15 طلبہ کے ہمراہ تھے جب ایک دھماکہ ہوا اور حملہ آور یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔

’میں نے کھڑکی سے جھانکا تو ایک عام لباس میں شخص کھڑا تھا۔ اس نے مجھ پر فائر کیا جس سے کھڑکی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ طلبہ کلاس روم کا دروازہ بند کردیا۔‘

حسینی نے مزید بتایا کہ کلاس روم کے اندر حملہ آوروں نے دو گرینیڈ پھینکے جس سے متعدد طلبہ زحمی ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

انھوں نے مزید کہا کہ وہ اور نو طلبہ ایمرجنسی گیٹ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ ’بھاگتے وقت میں نے دیکھا کہ ایک شخص زمین پر الٹا پڑا ہوا ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ اس کو پیچھے سے فائر کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔‘

اس سے قبل یونیورسٹی کے طالب علم احمد مختار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ یونیورسٹی کے داخلی دروازے سے 100 میٹر کے فاصلے پر تھے کہ زور دار دھماکہ اور فائرنگ ہوئی۔

انھوں نے بتایا کہ دھماکے سے اردگرد تیز روشنی ہوئی اور اس کے بعد یونیورسٹی کے کیمپس میں فائرنگ ہوئی۔

طالب علم احمد مختار کے مطابق انھوں نے کیمپس میں موجود طلبہ و طالبات کی چیخنے چلانے کی آوازیں بھی سنیں۔

ایک دوسرے طالب علم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ اور دوسرے طلبہ دھماکے کے وقت کلاس روم میں پھنس گئے تھے۔

انھوں نے ٹیلی فون پر بتایا ’میں نے اپنی قریب ہی کہیں دھماکے اور فائرنگ کی آواز سنی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اسی بارے میں