انڈیا میں’ کرائے کی کوکھ‘ پر پابندی کا مسودہ تیار

Image caption صرف بانجھ جوڑوں کو سرو گیسی کا حق حاصل ہوگا اور ایسے میں بھی وہ صرف کسی رشتے دار سے ہی رابطہ کر سکتے ہیں

انڈیا کی حکومت نے کرائے کی کوکھ کے کاروبار پر پابندی عائد کرنے کے لیے تیار کردہ قانونی مسودہ عام کر دیا ہے۔

اگر یہ قانون پارلیمنٹ سے منظور کر لیا گیا تو اس کے تحت ایسے افراد پر سروگیسی (کرائے کی ماں) کے ذریعے بچے حاصل کرنے پر پابندی ہو گی جن کے پاس انڈین پاسپورٹ نہیں ہو گا۔

٭ بھارتی حکومت کا کرائے کی کوکھ پر پابندی کا مطالبہ

٭ کرائے کی ماؤں کو بچوں سے بچھڑنے کا دکھ

اس کے علاوہ ہم جنس پرستوں یا انڈیا کے تنہا والدین پر بھی بچوں کے حصول کی پابندی ہو گی۔

صرف بانجھ جوڑوں کو سروگیسی کا حق حاصل ہو گا اور ایسے میں بھی وہ صرف کسی قریبی رشتے دار سے ہی رابطہ کر سکتے ہیں۔

بانجھ پن سے متعلق تنظیموں کا اس پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس سے ایک غیر قانونی صنعت کا آغاز ہو جائے گا۔

انڈیا کو دنیا بھر میں سروگیسی یا ’کرائے کی کوکھ‘ کا گڑھ قرار دیا جاتا ہے جہاں بانجھ جوڑے، جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں، مقامی عورتوں کو ان کے جنین کی مدد سے بچہ پیدا کر کے دینے کے عوض رقم اد کرتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق یہ صنعت سالانہ ایک ارب ڈالر کماتی ہے، لیکن اس کے باضابطہ نہ ہونے کی وجہ سے تحفظات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Image caption ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں یہ صنعت سالانہ ایک ارب ڈالر کماتی ہے

وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اس مجوزہ قانون کے تحت صرف مقامی بانجھ جوڑوں کو، جن کی شادی کو کم از کم پانچ برس ہو چکے ہوں، سروگیسی کی اجازت ہو گی اور یہ خاتون بھی ان کی قریبی رشتہ دار ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا ’یہ جامع بل تجارتی سروگیسی پر مکمل پابندی عائد کر دے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’بے اولاد جوڑے جو طبی طور پر بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں ہیں وہ اپنی کسی قریبی رشتہ دار رابطہ کریں گے، اس سے بےغرض سروگیسی کی جائے گی۔‘

کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے حصول کے لیے بے قرار جوڑوں کے پاس اب محدود راستے رہ گئے ہیں۔

بانجھ پن کے علاج کی ماہر ڈاکٹر ارچنا دھون نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں ایسے قوانین بنانے کی ضرورت ہے کہ کسی عورت کو زبردستی سروگیسی پر مجبور نہ کیا جائے جبکہ اس پر مکمل پابندی کی کوئی منطق نہیں ہے۔‘

دنیا بھر میں غریب لوگوں کا ایک تہائی انڈیا میں مقیم ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہی غربت رقم کے عوض عورتوں کو کرائے کی ماں بننے کے لیے آمادہ کرنے کی بڑی وجہ ہے۔

اسی بارے میں