کشمیر میں اب چھرّے نہیں چلیں گے: راج ناتھ سنگھ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انڈین وزیرداخلہ نے کہا کہ جو لوگ کشمیر کی شورش میں مارے گئے ہیں وہ ہمارے اپنے لوگ ہیں

انڈیا کے وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ وادیِ کشمیر میں اب چھرّے نہیں چلیں گے اور چھرّوں والے کارتوس چلانے والی بندوق کا متبادل آئندہ چند ہفتوں میں متعارف کروایا جائے گا۔

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے دو روزہ دورے کے اختتام پر بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو سری نگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ کچھ ہی ہفتوں میں وہ مظاہرین کے خلاف استعمال ہونے والی پیلٹ گن کا متبادل متعارف کروائیں گے۔

٭ یہ سب کشمیر پر چُپ کیوں ہیں؟

٭ ’پیلٹ گن مارتی نہیں زندہ لاش بنا دیتی ہے‘

قیام امن کے لیے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا: ’میں نے گذشتہ دورے کے دوران پیلٹ گن سے متعلق جائزہ کمیٹی کا اعلان کیا تھا اور کہا کہ دو ماہ کے اندر رپورٹ آئے گی، لیکن اب وہ رپورٹ کچھ ہی دنوں میں آئے گی اور ہم پیلٹ گن کا متبادل متعارف کروائیں گے۔‘

انھوں نے پولیس اور نیم فوجی اداروں میں 14 ہزار کشمیریوں کو بھرتی کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ہندوستان کے کسی بھی حصے میں روزگار یا تعلیم کے سلسلےمیں مقیم کشمیریوں کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ انتظام کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’جلد مظاہرین کے خلاف استعمال ہونے والی چھروں والی بندوق یا پیلیٹ گن کا متبادل متعارف کریں گے‘

انھوں نے کہا ایک رابطہ افسر مقرر کیا جائے جو کشمیریوں کی مدد کے لیے فون پر دستیاب ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ بھارتی سیاسی تنظیموں کا ایک کل جماعتی وفد بھی عنقریب وادی کا دورہ کرے گا، اور اس سلسلے میں مقامی حکومت کو تیاریاں کرنے کے لیے کہہ دیا گیا ہے۔

انڈین وزیر داخلہ نے کہا کہ جو لوگ کشمیر کی شورش میں مارے گئے ہیں ’وہ ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ جتنا دکھ آپ کو ہوتا ہے، اتنا ہی دکھ ہمیں بھی ہوتا ہے۔ چاہے کوئی عام شہری مارا جائے یا کوئی سکیورٹی اہلکار، ہم دکھی ہوتے ہیں۔‘

اس موقعے پر وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی موجود تھیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ پچھلے 50 روز سے جاری احتجاجی تحریک میں صرف پانچ فی صد آبادی شامل ہے اور 95 فی صد آبادی پرامن ذرائع سے مسائل کا حل چاہتی ہے۔’ہم اُن پانچ فی صد لوگوں کی من مانی برداشت نہیں کریں گے۔ ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ہو گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption محبوبہ مفتی نے دعوی کیا کہ پچھلے پچاس روز سے جاری احتجاجی تحریک میں صرف پانچ فی صد آبادی شامل ہے اور 95 فی صد آبادی پرامن ذرائع سے مسائل کا حل چاہتے ہیں

واضح رہے چند روز قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے مسائل کا سیاسی حل ڈھونڈنے کی ضرورت کا اعتراف کیا تھا۔

تاہم راج ناتھ سنگھ نے کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دینے سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ محبوبہ مفتی سوالات کے دوران مشتعل ہو گئیں اور پریس کانفرنس چھوڑ کر چلی گئیں۔

واضح رہے کہ راج ناتھ سنگھ 24 اگست کو دو روزہ دورے پر سری نگر پہنچے تھے۔ انھوں نے ٹویٹ کیا تھا کہ وہ کڑے فوجی حصار والے نہرو گیسٹ ہاؤس میں اُن سب لوگوں کے ساتھ کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں جو انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت پر یقین رکھتے ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aarabu Ahmad Sultan
Image caption راج ناتھ سنگھ نے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال کا دورہ بھی نہیں کیا جہاں درجنوں ایسے افراد زیرعلاج ہیں جو فورسز کی فائرنگ میں زخمی ہوگئے ہیں

انھوں نے دعویٰ کیا کہ دو روز کے دوران انھوں نے 300 سیاسی اور غیر سیاسی افراد کے ساتھ بات چیت کی۔ تاہم اس دوران علیحدگی پسند رہنما گھروں میں نظربند یا جیلوں میں قید ہیں۔

راج ناتھ سنگھ نے نہروگیسٹ ہاوس سے تین کلومیٹر کی دُوری پر واقع ایس ایم ایچ ایس ہسپتال کا دورہ بھی نہیں کیا جہاں درجنوں ایسے افراد زیرعلاج ہیں جو فورسز کی فائرنگ میں زخمی ہوئے تھے۔

بدھ کو راج ناتھ سنگھ کی آمد پر بھی مظاہرین پر فائرنگ کے واقعے میں ایک نوجوان ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں