خلیج فارس میں امریکہ کی ایرانی جہاز پر ’انتباہی فائرنگ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’رواں ہفتے کے دوران ایرانی جہاز نے متعدد بار امریکی جہازوں کے قریب آئے‘

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں اس کے جنگی بحری جہاز کو اس وقت ایرانی بحری جہاز کو خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی جب وہ اس کے دو بحری جہازوں کے قریب پہنچ گیا۔

امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ رواں ہفتے خلیج میں متعدد سنگین واقعات پیش آئے ہیں اور حالیہ واقعہ ان میں سے ایک ہے۔

* بحری عملے کی رہائی پر امریکہ ایران کا شکرگزار

پینٹاگون کے ترجمان پیٹر ُکک نے صحافیوں کو بتایا کہ ایرانی بحریہ کے جنگی جہازوں کی حرکات’ غیر محفوظ اور غیر پیشہ وارانہ اور معمول سے ہٹ کر تھی۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ ایرانی رویہ ناقابل قبول ہے اور ان واقعات کے وقت امریکی جہاز بین الاقوامی پانیوں میں تھے۔

اس سے پہلے منگل کو پینٹاگون نے الزام عائد کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی جہازوں نے اس کے ایک جنگی جہاز کو ہراساں کیا۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایرانی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ایرانی جہازوں نے صرف اپنی ذمہ داری ادا کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption خلیجی ملک بحرین میں امریکی نیوی کا پانچواں بحری بیڑا تعینات ہے

ایران کی سٹوڈنٹ نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر دفاع حسین دھقان نے کہا ہے کہ’ اگر امریکی جہاز ایران کی سمندری حدود میں داخل ہوتا ہے تو اسے لازمی خبردار کیا جائے گا۔ ہم ان پر نظر رکھیں گے اور اگر انھوں نے سمندری حدود کی خلاف ورزی کی تو انھیں روکیں گے۔‘

امریکی محکمۂ دفاع کے ایک اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی یو ایس ایس سکوال پیٹرولنگ جہاز سے 50 ایم ایم گن سے خبردار کرنے کے لیے تین فائر کیے گئے جبکہ اس سے پہلے روشنی کے گولے فائر کیے گئے لیکن اس کا اثر نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ ابتدا میں ایران کے تین جہاز تھے لیکن بعد میں صرف ایک جہاز تھا جسے خبردار کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی۔

اہلکار نے بتایا کہ ایک موقعے پر ایرانی جہاز امریکی جہاز سے تقریباً دو سو میٹر قریب پہنچ گیا تھا۔

خیال رہے کہ رواں برس جنوری میں ایران نے سمندری حدود میں داخل ہونے پر امریکی بحریہ کے دو کشتیوں اور عملے کے دس ارکان کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا تاہم بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتے خلیجِ فارس کے علاقے میں ہونے والے سنجیدہ واقعات میں شامل ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان الیزبتھ ٹروڈو نے کہا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے اقدامات تشویشناک ہیں، غیر ضروری طور پر تناؤ کو بڑھا رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ ایران کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں جنوری میں تب بہتری آئی تھی جب امریکہ نے ایران سے پابندیاں ہٹا دی تھیں۔ تاہم اب بھی دونوں ملکوں میں عراق اور شام میں ایران کے بیلیسٹک میزائلوں کے حوالے سے بہت سے اختلافات موجود ہیں۔

اسی بارے میں