چینی سکول میں آلودگی کی رپورٹ ’غلط‘ قرار

Image caption سرکاری ٹی وی چینل نے بتایا تھا کہ سکول کے پاس کی مٹی کی کا جائزہ لینے سے پتہ چلا کہ اس کی کیمائی سطح قومی سطح پر مقرر کردہ حد سے تقریبا 95،000 گناہ زیادہ ہے

چین میں تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انھیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں جس سے یہ کہا جا سکے کہ رواں برس کے شروع میں ایک سکول کے سینکڑوں بچے آلودگی کی وجہ سے بیمار پڑ گئے تھے۔

اپریل میں سرکاری ٹی وی چینل، چائنا سینٹرل ٹیلی ویژن نے بتایا تھا کہ جیانگ سو صوبے کے شانگزو علاقے میں شانگزو فارن لینگویج سکول کے پاس مٹی کا جائزہ لینے سے پتہ چلا کہ اس کی کیمائی سطح قومی سطح پر مقرر کردہ حد سے تقریبا 95،000 گناہ زیادہ ہے۔

لیکن تین ماہ میں سکول کے آس پاس کی فضا، پانی اور مٹی کے مطالعے کے بعد کہا گيا ہے کہ اس جگہ کی آلودگی کی سطح قابلِ قبول حد کے اندر ہی ہے۔

لیکن اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گيا کہ آخر سکول کے بچے کس وجہ سے بیمار پڑے تھے۔

خیال رہے کہ شانگزو فارن لینگویج سکول حال ہی میں بند ہونے والی ایک کیمیائی فیکٹری کے پاس ہی تعمیر کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اپریل میں سرکاری ٹی وی نے خبر دی تھی کہ سکول کے تقریباً 500 طلبا کو جلد کی سوزش، خون میں انفیکشن اور لیوکیمیا جیسی بیماریاں ہوگئی ہیں۔ جن طلبا نے جانچ کروائی ان میں چھ میں سے پانچ کو صحت سے متعلق مسائل سے دو چار پایا گیا تھا۔

اس رپورٹ کو لاکھوں لوگوں نے آن لائن پڑھا تھا اور اس پر غصے اور ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

بعض خبروں میں یہ بھی کہا گيا تھا کہ سکول کی تعمیر ماحولیات سے متعلق ادارے کے مشورے کے خلاف ہوئی تھی۔

شانگزو شہر کے حکام نے ژن ہوا نیوز ایجنسی کو بتایا کہ پہلے مٹی میں بعض مسائل تھے لیکن اس سلسلے میں تفتیش کاروں کو کچھ اہم نہیں ملا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سکول کے مقام سے طلبا میں پائے جانے والے تھائرائڈ سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ تھائرائڈ بیماری کی شرح تو ویسے بھی عام آبادی والے علاقوں میں بڑھ رہی ہے۔

اسی بارے میں