کچھ میٹھا ہو جائے!

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption ہندوستان کا ہر تہوار انواع و اقسام کی مٹھائیوں کا علم بردار ہے اور وہ موسم کی مناسبت سے بنائی اور بیچی جاتی ہیں

ہماری آبادی کا بیشتر حصہ کھانا کھانے کے بعد منھ میٹھا ضرور کر لیتا ہے۔ ہندوستانی کھانوں میں شیریں غذاؤں اور مٹھائیوں کا اہم حصہ ہے۔

پنڈت جواہر لال نہرو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کسی میز پر نمکین کھانے کے بعد اگر کوئی میٹھی غذا نہ ہوتی تو وہ گڑ کی فرمائش کر کے اپنا منھ میٹھا کر لیتے تھے۔

ہندوستان کا ہر تہوار انواع و اقسام کی مٹھائیوں کا علم بردار ہے، اور موسم کی مناسبت سے وہ بنائی اور بیچی جاتی ہیں۔ شیرینی کے بارے میں پرانے اور جدید دور میں ذائقے اور ذوق میں دو نمایاں فرق نظر آتے ہیں۔ اب غذاؤں کی فہرست میں اعلیٰ درجے کی مٹھائیوں کے وہ لوازمات شامل نہیں جو پہلے تھے۔ دوسرے لوگوں میں شیرینی کی اس شدت سے طلب نہیں رہی جو پہلے تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption اب غذاؤں کی فہرست میں اعلیٰ درجے کی مٹھائیوں کے وہ لوازمات شامل نہیں جو پہلے تھے، لوگوں میں شیرینی کی اس شدت سے اب طلب نہیں رہی جو پہلے تھی

زردہ، متنجن، مزعفر اور شش رنگا جو کبھی دسترخوانوں کی زینت ہوا کرتے تھے اب یکسر بھلا دیے گئے ہیں۔ دور جدید کی مصنوعات جیسے کیک، پیسٹری اور پڈنگ نے بڑی حد تک ہندوستان کی اعلیٰ شیریں غذاؤں کے ذوق و شوق کو ختم کر دیا ہے۔

حلوائیوں کی کڑھائی اب بھی گرم رہتی ہے۔ اس کی دکان اب بھی انواع و اقسام کی برفیوں، لڈوؤں، پیڑوں اور قلاقند سے سجی رہتی ہے، لیکن ان میں نہ تو پہلے سا مزا ہے اور نہ وہ اصلی لوازمات کی شمولیت۔ جلیبی کے بھرے تھال ضرور گاہکوں کو متوجہ کر لیتے ہیں۔ فرنی کے سکورے، اور کھیر کے پیالے اب بھی بازار میں فروخت ہوتے ہیں، لیکن لذت سے عاری۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کہا جاتا ہے کہ کہ جلیبی اصل میں عربی لفظ زلےبیا اور فارسی لفظ زالبیا کا بگڑا ہوا نام ہے

آئیے بتائیں جلیبی ہمارے ملک میں آئی کہاں سے۔ کہا جاتا ہے کہ کہ جلیبی اصل میں عربی لفظ زلےبیا اور فارسی لفظ زالبیا کا بگڑا ہوا نام ہے۔ لیکن 1450 میں ایک جین مصنف جینا سورا نے ایک ضیافت کا ذکر کیا ہے جس کے کھانوں کی فہرست میں جلیبی کا ذکر شامل ہے۔

1476 میں کھانا پکانے کی تکنیک اور لوازامات کے بارے میں لکھی جانے والی گئی تھی ایک کتاب جلیبی جیسی ایک شیرینی بنانے کی وہی ترکیب قلم بند کرتی ہے جو آج بھی مروج ہے۔ 17ویں صدی میں بھی جلیبی جیسی شیرینی بنانے کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن اس کے کھانے کا اصلی ذوق و شوق ہندوستان میں خاندان غلاماں کے زمانے سے شروع ہوتا ہے۔ جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امیر خسرو رسائل الاعجاز میں کئی جگہ دوسری مٹھائیوں کے ساتھ زالیبائی نباتی کا ذکر ملتا ہے۔

فالودہ، جفرات (میٹھا دہی) شکر پیچ، بادام لینے کے لوز اور گل قند سے بنی مٹھائیاں بھی اسی دور کی دین ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ chiranatana
Image caption اب روایتی مٹھائیوں کی جگہ جدید دور کی مٹھائیاں جیسے کیک اور پڈنگ وغیر زیادہ مقبول ہو رہے ہیں

مغلوں کی آمد نے شرینی کے دسترخوان کو وسیع تر کر دیا۔ انواع و اقسام کے حلوے، کھیر کے کٹورے اور فرنی کی پیالے بازاروں میں فروخت ہونے لگے۔ دہلی، جو کہ مغلوں کا دارلسلطنت تھا، کا نہ صرف خاص و عام بلکہ بادشاہ کا ہاتھی بھی شیرینی کا شوقین تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب بادشاہ کی سواری چوک ہربنی گھنٹے والے کی دوکان سے گزرتی تھی ہاتھی پیر ٹیک دیتا تھا اور جب تک برفی کا ٹکڑا یا موتی چور کے لڈو اسے دیا نہ دیے جاتے، وہ اپنی جگہ سے ہلتا تک نہیں تھا۔

مغلیہ دور میں دہلی کا بول بالا تھا لیکن آج بھی دورگذشتہ کی چند یادیں اس کی گلیوں میں باقی ہیں۔ کناری بازار کی جلیبی اور بڑے میاں کی دھوئیں والی کھیر کھانے لوگ بڑی دور سے جامع مسجد کی ان گلیوں میں آتے ہیں۔ قلفی کے مٹکوں پر لگے سرخ کپڑوں میں چھپی قلفی کا کیا کہنا۔

دو پیسے کی برف کی قلفی

دو کھائے بدن تھرائے

زیادہ کھائے فالج سے مر جائے

تصویر کے کاپی رائٹ unk

1590 میں لکھی جانے والی ابوالفضل کی تصنیف آئین اکبری میں درج ہے کہ بادشاہ کے شاہی باورچی خانے میں کھویا، لبتہ اور زعفران کے مرکب کو دھات سے بنے سانچوں میں ڈال کر بند کرنے کے بعد برف میں دبا دیا جاتا تھا۔ کچھ گھنٹوں بعد مرکب کو منجمد ہونے پر سانچوں سے نکال کر دسترخوان شاہی پر پیش کیا جاتا تھا۔ یہ تھی اس قلفی کی ابتدا جو آج بھی بڑے شوق سے کھائی جاتی ہے۔

ہندوستان میں بیشتر مٹھائیاں دودھ، اناج، گڑ کی آمیزش سے بنتی ہیں۔ دو حاضر میں گڑ کی جگہ شکر نے لے لی ہے لیکن اناج کا عنصر اب بھی شامل ہے۔ مٹھائیاں آج بھی موسم کی مناسبت سے بنائی اور بیچی جاتی ہیں۔ سردیوں میں گاجر کا حلوہ، گڑ کی بنی ریوڑی اور گزک۔ برسات میں گلگلے اور مال پوے، گرمیوں میں کھیر اور فرنی کا لطف اٹھائیے اور موج اڑائیے۔

اسی بارے میں