ساڑھی کے کاروبار کے بدلتے رنگ

جب لاونیا نلی اپنی ساڑھیوں کی دکان سے گزرتی ہیں تو ان کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔

32 سالہ لاونیا کا کہنا ہے کہ ان کو اپنے خاندان کے 88 سالہ پرانے کاروبار کو چلا کر بہت فخر محسوس ہوتا ہے۔

انڈیا کے جنوبی شہر چنئی میں یہ سٹور ان کے پُرکھوں نے 1928 میں کھولا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ نلی انڈیا میں ساڑھیوں کا ایک مشہور برانڈ بن چکا ہے۔

لاونیا کا کہنا ہے کہ سِلک کی بہترین ساڑھیاں بیچنے کی روایت اور شہرت اس کامیابی کی اصل وجہ ہے۔ انڈیا کے مختلف شہروں میں واقع 29سٹوروں سے سو ملین ڈالر کی سالانہ آمدنی اور سنگاپور اور کیلیفورنیا میں اس کے سٹوروں کی مقبولیت کی بدولت نلی کا کاروبار مسلسل ترقی کر رہا ہے۔

انڈیا میں مغربی یا ساڑھی کے علاوہ دیگر ملبوسات کی مقبولیت کے پیش نظر لاونیا اپنے سٹوروں میں نئی مصنوعات متعارف کرا رہی ہیں۔

نلی ریاست تامل ناڈو کی کانچی پورم ضلعے میں کھڈی پر بنی ساڑھیوں کے لیے مشہور ہے۔ یہ ساڑھیاں اپنی نفیس کپڑے، شوخ رنگوں اور خوبصورت ڈیزائن کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔

یہ خصوصی تہواروں، میلوں ٹھیلوں اور شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے ہر دلعزیر پہناوا ہیں اور خوبصورت ساڑھیوں کو سنبھال کر رکھا جاتا ہے اور بعض اوقات ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کر دیا جاتا ہے۔

یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ یہ ساڑھیاں سستی نہیں ہیں اور ان میں سے کچھ کی قیمت تین ہزار ایک سو ڈالر تک ہو سکتی ہیں۔

لاونیا کی کہنا ہے کہ چھوٹی عمر سے ہی ان کے لیے ممکن نہیں تھا کہ کمپنی اور کاروبار میں دلچسپی نہ لیتیں کیونکہ ان کے والد اور دادا رات کے کھانے پر بھی تمام وقت بزنس کے بارے میں بات چیت کرتے رہتے۔

’کاروبار اور ذاتی زندگی حیران کن طریقے سے ایک دوسرے جڑے ہوئے تھے۔‘

لاونیا نے خود 2005 میں 21 سال کی عمر میں کاروبار میں شمولیت اختیار کی۔ وہ چار سال تک کمپنی کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہیں اور پھر بزنس کی تعلیم اور تجربہ حاصل کرنے کے لیے امریکہ چلی گئیں۔

پہلے انھوں نے امریکہ کے مشہور ادارے ہارورڈ بزنس سکول میں داخلہ لیا اور پھر شکاگو میں برنس کنسلٹنگ فرم مکنزی سے منسلک ہو گئیں جہاں انھوں نے 2011 سے 2013تک کا عرصہ گزارا۔

2014 میں انڈیا واپس آنے کے بعد انھوں نے ایک سال آن لائن فیشن سٹور مِنترا میں کام کیا اور 2015 میں اپنے خاندانی کاروبار کی طرف لوٹ آئیں۔

لاونیا کے لیے چیلنج یہ تھا کہ وہ انڈین خواتین کے بدلتے ہوئے فیشن کے رحجانات کے پیشِ نظر کاروبار میں کس نوعیت کی تبدیلیاں لائیں، جو اب ساڑھی نسبتاً کم پہنتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Nalli

’ساڑھی طویل عرصے تک انڈین خواتین کی اکلوتی چوائس اور ترجیح تھی اور یہ اب تبدیل ہو چکا ہے۔‘

جبکہ نلی کا مغربی طرز کے کپڑے متعارف کرانے کا کوئی پلان نہیں ہے، لاونیا کے کاروبار سنبھالنے کے بعد نلی نے کرتِی اور شلوار قمیض کے مختلف ڈیزائن متعارف کرائے ہیں۔

کمپنی نے سستی ساڑھیاں بھی متعارف کرائی ہیں جن میں سستا کپڑا استعمال ہوتا ہے۔ کپڑے کے بننے میں پولیسٹر اور کاٹن کے دھاگے کے استعمال کی وجہ سے ساڑھیوں کی قیمت میں کمی آئی ہے اور ساڑھیوں کے چند ایک ڈیزائن دو ڈھائی سو روپے میں بھی ملنے لگے ہیں جو کہ سِلکی ساڑھیوں کی قیمت کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔

لاونیا نے جہاں کمپنی کے ویب سائٹ کو بہتر بنانے پر توجہ دی ہے تاکہ دنیا بھر سے ساڑھیوں کی شوقین خواتین آن لائن شاپنگ کر سکیں وہیں انھوں نے انڈیا میں نلی کے سٹوروں کی تعداد سن 220 تک دگنا کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

لاونیا کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان ان کی ان کاوشوں میں ان کا ساتھ دے رہا ہے کیونکہ وہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے ایک تفصیلی بزنس پلان سامنے لاتی ہیں۔