کشمیر:’کنپٹی پر بندوق رکھنے سے موقف نہیں بدلےگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی اور ديکر کشمیری رہنما گذشتہ کافی دنوں سے گھروں میں نظر بند ہیں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کے بڑے بیٹے نعیم شاہ گیلانی کو ان کے بینک اکاؤنٹس کے سلسلے میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے پوچھ گچھ کے لیے طلب کر لیا ہے۔

قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدگیلانی کے بیٹے سے ان کے بینک اکاؤنٹ میں مبینہ طور پر بیرون ملک سے آنے والے فنڈز کے بارے میں پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے۔

اس کی تصدیق کرتے ہوئے نعیم گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں این آئی اے کا سمن پیر کو ملا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ منگل کو اے این آئی کے دفتر جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر میں 52 دنوں کے محاصرے کے بعد پیر کو کرفیو میں نرمی کی گئی تھی لیکن حالات اب بھی کشیدہ ہیں

نعیم گیلانی نے کہا کہ انھیں این آئی اے کی طلبی پر بہت حیرانی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا: ’میں تو سیاسی آدمی ہوں نہیں۔ میں تو ایک ڈاکٹر ہوں۔ پھر مجھے کیوں بلایا ہے؟‘

خبروں کے مطابق این آئی اے ان سے ان کے بینک کھاتوں میں آنے والی مبینہ غیر ملکی کرنسی کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہے۔ انڈین حکومت دعویٰ کرتی رہی ہے کہ کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کو غیر ملکی پیسے دیے گئے ہیں۔

نعیم گیلانی کا کہنا تھا: ’اگر حکومت اکاؤنٹ کے بارے میں جاننا چاہتی ہے، تو وہ تعاون کے لیے تیار ہیں۔ میرا ایک ہی بینک اکاؤنٹ ہے جس میں صرف 31 ہزار روپے ہیں۔ یہ میرے والد کو کمزور کرنے کی حکومت ہند کی ایک چال ہے۔ اس میں انھیں کامیابی نہیں ملے گی۔‘

حریت کانفرنس کے ترجمان اور سید گیلانی کے داماد الطاف احمد شاہ نے بی بی سی سے کہا کہ گیلانی صاحب اس طرح کے دباؤ میں آنے والے نہیں ہے۔ انھوں نے حکومت ہند کی بات کرتے ہوئے کہا: ’آپ کنپٹی پر بندوق رکھ کر گیلانی صاحب سے کہہ رہے ہیں کہ وہ نرم رویہ رکھیں، اپنے موقف میں لچک لائیں۔ ایسا نہیں ہوتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

الطاف شاہ کے مطابق: ’انڈین حکومت ملے جلے اشارے کر رہی ہے۔ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ ’ہم کشمیر میں کل جماعتی وفد بھیجیں گے اور دوسری طرف ہمارے لوگوں کو تنگ کر رہی ہے۔ ایسے میں ان سے کون بات کرے گا؟‘

کشمیر میں آٹھ جولائی کو حزب المجاہدین کے مبینہ کمانڈر برہان وانی کی پولیس تصادم میں ہلاکت کے بعد سے بھارت مخالف مظاہرے اور تشدد جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز کی کارراوئیوں میں اب تک تقریبا 70 افراد مارے جا چکے ہیں۔ اور سکیورٹی فورسز سمیت ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے درجنوں کی پیلیٹ گن سے چوٹ لگنے کی وجہ سے آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔

حریت کانفرنس نے اس وقت سے جو ہڑتال بلائی تھی وہ اب تک جاری ہے۔ حریت کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی سمیت پارٹی کے تمام بڑے لیڈر اپنے گھروں میں نظر بند ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

الطاف شاہ کہتے ہیں کہ حریت کانفرنس بات چیت کرنا چاہتی ہے لیکن حکومت ہند کی آئین کے دائرے میں رہ کر بات چیت کی شرط اسے منظور نہیں۔

انہوں نے بتایا: ’حکومت ہند نے 2002 میں گیلانی صاحب کے بہت سے رشتہ داروں کے گھروں پر انکم ٹیکس کے چھاپے مارے تھے، جن میں سے ایک میں بھی تھا۔ لیکن بعد میں یہ صاف ہو گیا کہ وہ فرضی کیس کی بنیاد پر ہوا تھا۔‘

نعیم گیلانی پیشے سے ڈاکٹر ہیں۔ وہ سری نگر میں اپنے والد کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ این آئی اے 2011 میں ان کے خلاف درج ہونے والے کسی کیس کے حوالے سے ان سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق انھیں اس کیس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نعیم گیلانی پاکستان میں آٹھ سال رہنے کے بعد 2010 میں سری نگر واپس لوٹے تھے۔ انہوں نے بتایا: ’میں اخوان (ہتھیار ڈالنے والے شدت پسندوں) کے حملوں کے خوف سے پاکستان چلا گیا تھا۔ میں پاسپورٹ کے ساتھ قانونی طریقے سے پاکستان گیا تھا اور قانونی طریقے سے واپس لوٹا۔‘

پاکستان میں آٹھ سالوں تک کیا کیا؟ اس سوال پر وہ بولے: ’میں نے وہاں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کی اور چند سال ڈاکٹر کی حیثیت سے کام بھی کیا۔‘

نعیم گیلانی آج کل سرینگر کے ایک سرکاری ہسپتال میں کام کرتے ہیں۔

اسی بارے میں