’جعلی‘ طور پر ایورسٹ سر کرنے والوں پر پابندی

نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان دو انڈین کوہ پیماؤں پر دس سالہ پابندی عائد کر دی ہے جنھوں نے ایورسٹ سر کرنے والا پہلا انڈین جوڑا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

حکام کے مطابق اس سلسلے میں نیپال کی حکومت کی طرف شروع کی جانے والی تحقیقات پیر کے روز اپنے اختتام کو پہنچیں جن میں یہ ثابت ہوگیا کہ انڈین جوڑے نے چوٹی سر کرتے ہوئے جو تصاویر جاری کی ہیں وہ جعلی تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پابندی کا مقصد دیگر کوہ پیماؤں کو اس بات سے روکنا ہے کہ اس طرح کے جعلی اور بدنیتی پر مبنی دعوے کریں۔

دنیش اور تراکشواری راٹھور نے جولائی میں میڈیا کو بتایا تھا کہ انھوں نے تئیس مئی کو ایورسٹ کو سر کیا۔

تاہم اب حکام نے کہا ہے کہ انھوں نے چوٹی سر کرتے ہوئے جو تصاویر جاری کی تھیں ان میں رد و بدل کیا گیا تھا۔

نیپال کے محمکۂ سیاحت نے ان میاں بیوی کو چوٹی سر کرنے کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا تھا لیکن اب تحقیقات کے بعد اس فیصلے کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

محکمہِ سیاحت کے سربرہ سدھرشن پرساد دھکل نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مسٹر اور مسز راٹھور نے جو فوٹو جمع کرائے تھے ان کے تجزیے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ انھوں نے ایورسٹ سر کرنے والے ایک اور انڈین کوہ پیما کی تصاویر میں رد و بدل کر کے اپنی تصاویر اور بینرز شامل کر دیے تھے۔

’اس بارے میں وضاحت حاصل کرنے کی کئی کوششوں کے باوجود ان سے تحقیقات میں کسی نوعیت کا تعاون نہیں مل سکا ہے۔‘

مسٹر دھکل نے یہ بھی بتایا کہ اس جوڑے کی مدد کرنے والے دو شیرپا مددگار ابھی تک مفرور ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پابندی دوسرے کوہ پیماؤں کے لیےایک تنبیہ ہے کہ وہ اخلاقیات کی پیروی کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MAKALU ADVENTURE

دنیش اور تراکشواری راٹھور جو دونوں انڈین شہر پونے میں پولیس اہلکار ہیں۔ انھوں نے جولائی میں ایورسٹ سر کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور ان کے ساتھ جانے والے دیگر کوہ پیماؤں نے بھی ان کی تائید کی تھی۔

تاہم بنگلور سے تعلق رکھنے والے ایک کوہ پیما ستیاروپ سدھانت نے بعد میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ راٹھور میاں بیوی نے ثبوت کے طور پر جو فوٹو جمع کرائے ہیں جو ان کے ہیں۔

اس بات میں مزید شبہات اس وجہ سے بھی پیدا ہوئے کیونکہ ان کے مبینہ طور پر چوٹی سر کرنے کی تاریخ اور پریس کانفرنس میں اس کے اعلان میں کئی دنوں کا فرق ہے۔

اس سال کوہ پیمائی کی سیزن کے دوران 250 غیر ملکیوں سمیت 450 کوہ پیماؤں نے ایورسٹ کی چوٹی سر کی ہے۔