دہلی: ’سیکس سکینڈل ٹیپ‘ آنے کے بعد وزیر برطرف

تصویر کے کاپی رائٹ SANDEEP KUMAR TWITTER ACCOUNT
Image caption سندیپ کمار کا کہنا ہے کہ جس سی ڈی کے حوالے سے انھیں برطرف کیا گیا ہے اس میں وہ نہیں ہیں اور ان کے خلاف سازش کی گئی ہے

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں عام آدمی پارٹی کے وزیر سندیپ کمار کو ایک مبینہ سیکس ٹیپ منظر عام پر آنے کے بعد انھیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

سندیپ کمار عام آدمی پارٹی کے وزیر برائے خواتین اور بچوں کی بہبود تھے۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ ان کو کمار کی ایک ’قابل اعتراض‘ سی ڈی موصول ہوئی تھی اور ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سیسودیا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کیجریوال نے کمار کو عہدے سے برطرف کر نے کا فیصلہ ویڈیو ملنے کے آدھے گھنٹے کے اندر کیا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ویڈیو کس نے بھیجی تھی۔

Image caption دلی میں اس وقت عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ سکینڈل یا بدعنوانی کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گی

سیسودیا نے مزید کہا کہ ان کی جماعت بدعنوانی اور سکینڈلز کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گی۔

سندیپ کمار کا کہنا ہے کہ جس سی ڈی کے حوالے سے انھیں برطرف کیا گیا ہے اس میں وہ نہیں ہیں۔ ' میں ان الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہوں۔ یہ تفتیش کا معاملہ ہے اور میرا میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے۔‘

دلی میں اپنا دفاع کرتے ہوئے میڈیا سے مسٹر کمار نے کہا کہ چونکہ لوگ پچھڑے طبقے کی ترقی دیکھ نہیں سکتے اس لیے ان کے خلاف سازش کی گئی ہے۔’ میں ایک دلت ہوں اور دلتوں کا چہرہ بن رہاتھا اس لیے کچھ لوگوں نے مجھے نشانہ بنایا ہے۔‘

دلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے اور وہ اس جماعت کے ایسے دوسرے وزیر ہیں جن کو عہدے سے برطرف کیا گیا ہے۔

گذشتہ سال وزیر خوراک کو رشوت لینے کے الزام میں برطرف کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں