میرے 15 لاکھ روپے کہاں گئے: مودی سےسوال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کنہیا کا کہنا ہے کہ مودی کی حکومت میں صرف سرماداروں کو فائدہ پہنچا ہے

مرکزی انفارمیشن کمیشن نے معلومات کے حق سے متعلق قانون یعنی آر ٹی آئی کے تحت دی گئی ایک درخواست پر وزیر اعظم کے دفتر سے جواب طلب کیا ہے جس میں سوال کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے وعدے کے مطابق لوگوں کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے کب آئیں گے۔

آر ٹی آئی میں پوچھا گیا ہے کہ نریندر مودی نے 2014 کے عام انتخابات کے دوران جو وعدہ کیا تھا کہ وہ بیرون ممالک سے کالا دھن واپس لائیں گے اور ہر ہندوستانی کے اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ روپے ہونگے تو وہ رقم ان کے اکاؤنٹ میں کب آئے گی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نریندر مودی نے 2014 کے انتخابات میں کالا دہن واپس لانے کا وعدہ کیا تھا

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق راجستھان کے جھالاواڑ ضلع میں کنہیا لال نامی ایک شخص کی درخواست کے بعد وزیر اعظم کے دفتر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس وعدے کے بارے میں جواب دے۔

چیف انفارمیشن کمشنر رادھا کرشن ماتھرکا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے دفتر کو بھیجےگئے میمورینڈم میں کنہیا لال نے کہا تھا کہ ’انتخابات کے وقت، اعلان کیا گیا تھا کہ کالا دھن واپس بھارت لایا جائے گا اور ہر غریب کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے جمع کئے جائیں گے، وہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ کہاں تک پہنچا۔‘

ماتھر نے کہا،’کنہیا لال نے وزیراعظم سے جواب طلب کیا ہے کہ انتخابات کے دوران اعلان کیاگیا تھا کہ ملک سے بدعنوانی ختم کر دی جائے گی، لیکن اس کے باوجود بدعنوانی میں نوے فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کنہیا نے یہ بھی پوچھا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے نیا قانون کب بنایا جائے گا‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کنہیا لال نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ مودی کی حکومت میں بدعنونیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے

کنہیا نے اپنی درخواست میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ منصوبوں کا فائدہ صرف امیر اور سرمایہ داروں تک ہی محدود ہے اور یہ غریبوں کے لیے نہیں ہے۔

انہوں نے یہ سوال بھی کیا ہے کہ کیا موجودہ حکومت کانگریس کے دور حکومت میں سینیئر شہریوں کو ریل کے سفر میں ٹکٹوں پر دی گئی 40 فیصد رعایت واپس لے رہی ہے۔

ماتھر نےکہا:’اس آر ٹی آئی درخواست پر 15 دنوں میں جواب دیا جانا چاہئے۔‘