’گاندھی کے قتل کے بیان پر قائم، مقدمے کا سامنا کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آر ایس ایس نے اس بیان کے بعد راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ قائم کیا تھا

انڈیا میں کانگریس پارٹی کے لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ وہ اپنے اس بیان پر قائم ہیں کہ مہاتما گاندھی کو آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں نے مارا تھا اور اس کے لیے عدالت کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔

راہل نے یہ بات 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے دوران کہی تھی جس کے بعد ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

٭ گاندھی کو کس نے مارا؟

اس مقدمے کو خارج کرانے کے لیے انھوں نے پہلے تو سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن جمعرات کو اس معاملے کی سماعت کے دوران انھوں نے اپنی درخواست واپس لے لی۔

کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سورجے والا نے کہا کہ ’راہل گاندھی نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے، وہ اپنے بیان پر قائم ہیں اور مہارشٹر کی عدالت میں مقدمے کا سامنا کریں گے۔‘

سپریم کورٹ نے کہا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران راہل گاندھی کو خود پیش ہونا ہوگا۔

راہل گاندھی نے دو برس قبل پارلیمانی انتخابات کے دوران کہا تھا کہ ’ آر ایس ایس کے لوگوں نے گاندھی جی کو مارا تھا۔۔۔اور اب وہ سردار پٹیل اور جواہر لال نہرو کی بات کرتے ہیں۔۔۔‘

راہل گاندھی کے وکیل اور سابق وزیر کپل سبل نے سپریم کورٹ سے اپنے فیصلے میں یہ بات شامل کرنے کے لیے کہا کہ راہل گاندھی آر ایس اسی کے خلاف اپنے بیان کے ہر لفظ پر قائم ہیں، لیکن عدالت نے انکار کر دیا۔

اس سے پہلے راہل گاندھی نے عدالت میں کہا تھا کہ ان کا مقصد پوری آر ایس ایس پر الزام لگانا نہیں تھا۔

مہاتاما گاندھی کو آزادی کے صرف پانچ مہینے بعد 30 جنوری، 1948 کو قتل کیا گیا تھا اور ان کے قتل کے جرم میں ناتھو رام گوڈسے کو پھانسی دی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گاندھی کے قاتل گوڈسے نے عدالت میں کہا تھا کہ انھوں نے گاندھی کو پاکستان اور مسلمانوں کی حمایت کرنے کی وجہ سے قتل کیا تھا

گوڈسے کا تعلق آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا سے تھا اور مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے آر ایس ایس پر عارضی پابندی بھی عائد کی تھی۔

کانگریس کے مطابق یہ ’اصولوں‘ کی لڑائی ہے اور راہل گاندھی اس نظریے کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو معاشرے میں نفرتیں پیدا کر رہی ہے۔

لیکن جواب میں بی جے پی کے ایک ترجمان نے کہا کہ کانگریس اور راہل گاندھی اپنے بیان بدلتے رہتے ہیں۔

ان کے مطابق آر ایس ایس معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرتی ہے اوراس وقت اتر پردیش کے ریاستی انتخابات کی وجہ سے اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اب یہ نظریاتی جنگ مہاراشٹر کی ایک ذیلی عدالت میں لڑی جائے گی۔

اسی بارے میں