مسئلہ کشمیر پاک و ہند سیاسی بھنور میں معلق

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان نے انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی زیادتیوں کو اجاگر کرنے کے لیے قومی اسمبلی کے ارکان کے مختلف وفود دنیا کے کئی ملکوں کو روانہ کیا ہے۔ ان میں امریکہ اور کئی اہم یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔ یہ ممالک کشمیر کے حالات سے پاکستان سے بہتر طریقے سے واقف ہیں۔

لیکن دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور تبدیل ہوتی ہوئی ترجیحات کے سبب ان ممالک نے کشمیر پر اب مکمل خاموشی اختیار کر لی ہے اور اس تنازعے کے حل کے سلسلے میں پاکستان کو اب وہ حمایت حاصل نہیں جو آٹھ دس برس پہلے ہوا کر تی تھی۔

٭ جنھیں کوئی جانتا نہیں ہے تو بات کیا سنے گا؟

٭ کشمیر کی آواز اٹھانے کے لیے 22 اراکینِ پارلیمان منتخب

٭ ’کشمیر انڈیا کا اندرونی معاملہ نہیں ہے‘

پاکستان نے سعودی عرب، ایران اور اسلامی ممالک کو بھی وفود بھیجے۔ ان میں سے بیشتر ممالک ایسے ہیں جو شخصی آمریتوں اور اپنے عوام سے کٹے ہوئے حکمرانوں کے زیرتسلط ہیں۔ ان ملکوں میں انسانی اور سیاسی حقوق کا تصور صحرائے سینائی میں برف کے پہاڑ تلاش کرنے کے مترادف ہے۔ کشمیر کے دکھوں کا مداوہ وہ کیا کریں گے۔

ادھر انڈیا کی حکومت نے ایک کل جماعتی وفد سرینگر بھیجا ہے۔ یہ وہاں کیا کرے گا خاص طور سےان حالات میں جب شورش زدہ وادی کی آزادی کی حامی قیادت ان سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔ علیحدگی پسندوں اور ان کے حامی شدت پسندوں نے وفد کی آمد پر مکمل ہڑتال اور بائیکاٹ کا نعرہ دے رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شورش زدہ وادی کی عوام گذشتہ دو مہینے سے فورسز اور علیحدگی پسندوں کے ٹکراؤ کےاسیر بنے ہوئے ہیں۔ 70 سےزیادہ نوجوانوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ دس ہزار سے زیادہ نوجوان اور فورسز کے اہلکار زخمی ہیں۔ یہ کوئی ایسا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ 2008 اور 2010 میں بھی اسی طرح علیحدگی پسندوں کی کال پر لوگ سڑکوں پر آئے تھے۔ ان مظاہروں میں بھی اسی طرح سینکڑوں لوگ مارے گئے تھے اور ہزاروں زخمی ہوئےتھے۔ لیکن 2008 سے 2016 تک مظاہروں اور احتجاج سے کیا کچھ حاصل ہوسکا؟ کسی سمت کوئی پیش رفت ہوئی؟ کسی طرح کی کوئی تبدیلی رونما ہوئی؟ شاید نہیں۔

کشمیر جن حالات سے گزر رہا ہے اس درد کو صرف وہ کشمیری ہی سمجھ سکتے ہیں جو ان حالات کا شکار ہیں۔ وہ حکومت اورعلیحدگی پسندوں کے درمیان ایک ایسے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں جن پر ان کا کوئی کنٹرول اور اختیار نہیں۔ بین الاقوامی برادری کشمیر سے بالکل اسی طرح اب لاتعلق نظرآتی ہے جس طرح وہ فلسطینیوں کے حالات پر خاموش ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان خود اس وقت کئی طرح کے اندرونی اضطراب سے گزر رہا ہے۔ اپنے اندرونی تضادات کے پس منظر میں اب جب وہ کشمیر کا ذکر کرتا ہے تو بھارت اسے بلوچستان یاد دلاتا ہے۔ کشمیر بھارت، پاکستان اور علیحدگی پسندوں کی ایک ایسی سیاست میں الجھا ہوا ہے جس کی قیمت کشمیری نئی نسل کے مستقبل سےادا کر رہے ہیں۔

ہڑتالیں، کرفیو، پیلٹ گن،گرفتاریاں اور فورسز کی زیادتیاں ہمیشہ کےلیے نہیں رہیں گی۔ آئندہ چند دنوں میں موجودہ صورتحال میں کچھ بہتری آسکتی ہے۔ وادی کی زندگی رفتہ رفتہ پھر معمول پرآ ئے گی۔ جن کے بچے سکیورٹی فررسزکےہاتھوں مارے گئے اور جو ہزاروں زخمی ہوئے وہ نئی حقیقتوں کے تحت اپنی بکھری ہوئی زندگی سمیٹنے کی کوشش کریں گے۔

کچھ دنوں میں پاکستان کے پارلیمانی وفود غیر ممالک سے واپس آ چکے ہوں گے۔ بھارت کا کل جماعتی وفد سرینگر سےدہلی لوٹ چکا ہوگا۔ علیحدگی پسند حق خود ارادیت کا نعرہ دہراتے ہوئے مظاہروں اور احتجاج کی نئی تاریخوں کا اعلان کریں گے۔ اگلی شورش تک کشمیر پھر معمول پر آ جائے گا۔ کشمیر کی نئی نسل کا مستقبل اس تباہ کن بےسمت سیاست کے بھنور میں معلق رہے گا۔

اسی بارے میں