انڈیا: کشمیر میں کل جماعتی وفد بھیجنے سے پہلے مشاورت

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر میں 8 جولائی سے حالات انتہائی کشیدہ ہیں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جاری کشیدہ حالات اور وادی میں کل جماعتی وفد کے دورے کے حوالے سے مرکزی حکومت ایک مشاورتی اجلاس منعقد کر رہی ہے۔

اتوار کو وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں 28 ارکان کی ایک کل جماعتی وفد دو دنوں کے دورے پر کشمیر جا رہا ہے جہاں وہ تمام فریقوں سے ملاقات کرے گا تاہم راج ناتھ سنگھ انہی لوگوں سے ملیں گے جو ان سے ملنے میں دلچسپی دکھائیں گے۔

*کشمیر:’کنپٹی پر بندوق رکھنے سے موقف نہیں بدلےگا‘

* کشمیر میں’مخملی دستانہ نہیں اب صرف فولادی ہاتھ‘

اطلاعات کے مطابق حکومت نے اس بات کے اشارے دیے ہیں کہ وفد میں شامل رہنما اگر چاہیں تو وہ علیحدگی پسند رہنماؤں سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔

اس گروپ کو کشمیر بھیجنے کا فیصلہ 12 اگست کو اسی مسئلے پر وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والے سیاسی جماعتوں کے اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے جمعے جی رات ایک ٹی وی چینل کے انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ ’مسئلہ کشمیر کے بیج آزادی کے دوران بوئے گئے تھے۔‘ انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل ’ترقی‘ اور ’لوگوں کا اعتماد‘ جیتنے سے ہوگا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ کشمیر کے نوجوان ’گمراہ نہیں ہوں گے اور کشمیر صحیح معنوں میں جنت بن سکے گا۔‘

اتوار کو کشمیر کے دورے پر جانے والے وفد میں شامل جنتا دل (یونائیٹڈ) کے شرد یادو نے کہا ہے کہ ’ہماری کوشش ہوگی کہ عام رائے بن جائے۔ ہم لوگ حریت سمیت ہر کسی سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں اضافی ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں تعینات کیے گئے ہیں

این سی پی لیڈر طارق انور نے کہا کہ ’بہت زیادہ امید نہیں کر رہے ہیں۔ وہاں کا ماحول بد سے بدتر ہو چکا ہے۔ ایک وفد کے جانے سے وہاں فوری طور پر حالات بدل جائیں گے ایسا نہیں ہے۔ 2010 میں بات چیت جاری رہی تھی تو اس کا فائدہ ہمیں ملا۔ کم از کم بین الاقوامی پلیٹ فارم پر یہ کہہ سکیں گے کہ ہم نے وہاں امن انتظامات کرنے کے لیے تمام کوشش کی۔‘ سری نگر سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق کل جماعتی وفد سال 2010 میں بھی یہاں آیا تھا لیکن پچھلی بار ایسے حالات نہیں تھے۔ 60 دنوں تک مسلسل کرفیو، ہڑتال اور بند نہیں تھا اور نہ ہی اتنے لوگ زخمی تھے جتنے اس بار ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق وفد کے حوالے سے جمعے کو کانگریس کے ڈاکٹر کرن سنگھ کشمیر پہنچے تاہم انھوں نے کوئی رسمی اعلان نہیں کیا لیکن انھوں نے کہا کہ علیحدگی پسندوں کو بات چیت کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی اسے مسترد نہیں کرنا چاہیے۔

کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیموں، تاجروں اور سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے پہلے ہی کہا ہے کہ کوئی بھی وفد ہو بات چیت اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک اس کا ایجنڈا واضح نہ ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد زخمی ہو چکے ہیں

ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی نے بیان دیا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کے سیاسی حل اور پائیدار حل ڈھونڈنے ہو گے لیکن اس کے بعد اس طرح سے کوئی پہل ہوتی نظر نہیں آتی۔ ان تنظیموں کے مطابق پیلیٹ گن پر پابندی عائد کیے جانے کے بارے میں تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں لیکن وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسے بین نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے بعد جمعے کو یہ خبر بھی آئی کہ جموں کشمیر پولیس نے مزید پیلٹ گنز خریدی ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق انتظامیہ کی کوشش ہے کہ وادی میں جاری کرفیو کو ہٹایا جائے لیکن جس علاقے میں بھی کرفیو ہٹایا جاتا تو وہاں نوجوان باہر آ جاتے ہیں اور احتجاجی مظاہرے شروع ہو جاتے ہیں۔

کشمیر میں پولیس نے گذشتہ کئی ہفتوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور ان گرفتاریوں پر لوگوں کے غصے میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

8 جولائی کو عسکریت رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے۔

اسی بارے میں