کل جماعتی وفد کی سری نگر آمد، شوپیاں میں کرفیو

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption علاقے میں کشیدگی کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے

بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں ایک کل جماعتی پارلیمان وفد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر پہنچا ہے جبکہ اس موقعے پر تشدد کے واقعات میں 400 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اتوار کی صبح شوپیاں کے گاؤں پجورا میں کچھ افراد حکومت مخالف ریلی نکال رہے تھے جسے پولیس نے روکا تو یہ واقعہ پیش آیا۔

*مسئلہ کشمیر پاک و ہند سیاسی بھنور میں معلق

* کشمیر:’کنپٹی پر بندوق رکھنے سے موقف نہیں بدلےگا‘

*کشمیر میں ’مخملی دستانہ نہیں اب صرف فولادی ہاتھ‘

ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے ضلعی انتظامیہ کے دفتر کو نذر آتش کر دیا ہے جبکہ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کومنتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔علاقے میں کشیدگی کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ ہائی وے پر سیکورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ ’جن علاقوں میں احتیاطی تدبیر کے طور پر کرفیو نافذ کیا گیا ہے، وہاں علیحدگی پسند رہنماؤں نے لوگوں سے کہا ہے کہ کل جماعتی وفد کے دورے کے دوران ایئر پورٹ روڈ، لال چوک، سٹی سینٹر اور ضلع ہیڈ کوارٹر پر قبضہ کر لیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption 28 ارکان کی ایک کل جماعتی وفد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں سری نگر پہنچ چکا ہے

کچھ مظاہرین نے کو ترال میں رکنِ اسمبلی کے گھر میں آگ لگا دی تھی۔

شوپیان کے علاوہ پلوامہ، اننت ناگ، بڈگام اور دوسرے ضلعوں میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں چار سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

ادھر 28 ارکان کی ایک کل جماعتی وفد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں سری نگر پہنچا ہے۔

علیحدگی پسند جماعتوں نے وفد سے مذاکرات کی دعوت کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم اتنظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وفد نے سیاسی رہنماؤں سمیت دو سو سے زائد لوگوں سے تبادلہِ خیال کیا ہے۔

وفد میں کانگریس کے غلام نبی آزاد، کمیونسٹ پارٹی کے سیتا رام یچوری اور حیدرآباد سے مسلمان رکن پارلیمان اسد الدین اویسی بھی شامل ہیں۔

وفد وادی میں دو دنوں تک رہے گا اور وہاں الگ الگ سیاسی جماعتوں سے موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرے گا۔

واضح رہے کہ آٹھ جولائی کو مشتبہ شدت پسند برہان وانی کی سکیورٹی کے ساتھ مبینہ تصادم میں ہوئی موت کے بعد سے کشمیر وادی میں گزشتہ دو ماہ سے کشیدگی ہے۔

اسی بارے میں