کابل: دھماکوں میں کم سے کم 24 ہلاک، 91 زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شدت پسند تنظیم طالبان سے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل میں وزارتِ دفاع کے قریب دو دھماکے ہوئے ہیں جس میں کم سے کم 24 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 91 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

کابل میں وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا دھماکہ ہونے کے بعد جب سکیورٹی فورسز اور عام افراد لوگوں کی مدد کے لیے پہنچے تو اُسی وقت دوسرا دھماکہ ہو گیا۔

خیال کیا جا رہا پہلے دھماکہ ریموٹ کنٹرول کی مدد سے کیا گیا جبکہ دوسرا حمل خودکش تھا۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ اس حملے میں فوج کے جنرل سمیت پولیس کے دو سینیئر افسران بھی مارے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ پہلا دھماکہ ہونے کے بعد جب سکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچی تو دوسرا دھماکہ ہو گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس دھماکے میں پولیس اہلکار، فوجی اور عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

دھماکہ اُس وقت ہوا جب دفتری اوقات ختم ہونے کے بعد ملازمین دفتر سے نکل رہے تھے۔

شدت پسند تنظیم طالبان سے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’حملے افغانستان کے دشمنوں نے کیے جو اب افغان سکیورٹی فورسز اور دفاعی افواج سے لڑنے کی سکت کھو رہے ہیں۔‘

افغانستان میں طالبان امریکی حمایت یافتہ صدر اشرف غنی کی حکومت کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس لیے وہ سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ دو ہفتے قبل کابل میں امریکی یونیورسٹی میں ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں