کشمیریوں کے خلاف ’مرچوں‘ والے کارتوس استعمال ہوں گے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں جاری تشدد پر بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے

انڈیا کے وزیرِ داخلہ راجہ ناتھ سنگھ نے کہا کہ کشمیر میں تعینات سکیورٹی فورسز بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے چھرے والے کارتوسوں کے بجائے مرچوں والے کارتوس استعمال کریں گی۔

راج ناتھ سنگھ ان دنوں بھارتی پارلیمان کے ایک وفد کے ہمراہ سری نگر میں ہیں تاکہ برہانی وانی کی بھارتی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد آٹھ جولائی کو شروع ہونے والے عوامی احتجاج کو روکا جا سکے۔

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے عوامی احتجاج کو دبانے کے لیے بھارتی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران طاقت کی بھرپور استعمال کیا اور عوام اجتماعات پر فائرنگ کے علاوہ چھرے والے بندوق کا استعمال کیا۔

چھرے لگنے سے سو سے زیادہ نوجوان جوزی یا مکمل طور پر اپنی بینائی کھو بیٹھے ہیں۔ تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ماہ میں ستر ہو گئی ہے۔

مقامی حکام اور طبی عملے کے مطابق چھرے لگنے سے چار افراد کی ہلاکت ہوئی جب کہ سو سے زیادہ نابینا ہو گئے۔

مرچوں والے کارتوسوں کے بارے میں کہا گیا ہے ان کی زد میں آنے والے عارضی طور پر حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتے۔

وزیر داخلہ کے مطابق ماہرین کے پینل نے تجویز دی ہے کہ حکومت چھرے والے کارتوس کے بجائے مرچوں والے کارتوس استعمال کرے۔

سنگھ نے کہا کہ مرچوں والے کارتوس سے انسانی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ نہیں رہے گا۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ایک ہزار کارتوسوں کی کھیپ کشمیر پہنچ چکی ہے۔

گذشتہ ایک ماہ سے بھارت کے زیرِ انتظام کے بیشترً علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کے باوجود تقریباً روزآنہ ہزاروں کی تعداد میں کشمیری کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر آ کر احتجاج کرتے رہے ہیں۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جاری کشیدگی پر کئی بین الاقوامی اداروں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں