کابل: امدادی ادارے پر حملہ، ایک شخص ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شدت پسند تنظیم طالبان سے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک امدادی ادارے پر ہونے والے بم حملے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔ یہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والا چوتھا دھماکہ ہے۔

ایک خود کش حملہ آور نے کیئر نامی تنظیم کو نشانہ بنایا جس کے بعد مسلح افراد عمارت میں داخل ہو گئے۔

طلوع نیوز کے مطابق پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

حکام کے مطابق پوری رات فائرنگ کا تبادلہ ہواتا تھا۔ تاہم اب یہ کارروائی ختم ہو گئی ہے اور تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق 40 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

اس حملے سمیت گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں کابل میں چار بم حملے ہو چکے ہیں اس سے پہلے پیر کو وزارتِ دفاع کے قریب دو دھماکوں میں کم سے کم 24 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

کابل میں وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا دھماکہ ہونے کے بعد جب سکیورٹی فورسز اور عام افراد لوگوں کی مدد کے لیے پہنچے تو اُسی وقت دوسرا دھماکہ ہو گیا۔ وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ اس حملے میں فوج کے جنرل سمیت پولیس کے دو سینیئر افسران بھی مارے گئے۔

خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے وزارتِ دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ پہلا دھماکہ ہونے کے بعد جب سکیورٹی فورسز جائے وقوعہ پر پہنچی تو دوسرا دھماکہ ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس دھماکے میں پولیس اہلکار، فوجی اور عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

دھماکہ اُس وقت ہوا جب دفتری اوقات ختم ہونے کے بعد ملازمین دفتر سے نکل رہے تھے۔ شدت پسند تنظیم طالبان نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ حملے افغانستان کے دشمنوں نے کیے جو اب افغان سکیورٹی فورسز اور دفاعی افواج سے لڑنے کی سکت کھو رہے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں