پوکیمون گیم سےمذہبی جذبات کو ٹھیسں

ورچوئل ریئلٹی پر مبنی گیم پوکیمون گو کے خلاف ’لاکھوں سبزی خوروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے‘ کے الزام میں مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔

بھارتی ریاست گجرات کی ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ اس گیم پر پابندی لگا دی جائے کیونکہ اس میں عبادت کی جگہ انڈوں کی تصویریں دکھائی گئی ہیں جو ہندوؤں اور جین مت کے پیروکاروں کے لیے ’توہین آمیز‘ ہیں۔

عدالت نے پوکیمون گو بنانے والی کمپنی سے کہا ہے وہ ان الزامات کا جواب دے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پوکیمون گو بنانے والی کمپنی نیانٹک ایسا کرے گی یا نہیں۔ عدالتی کارروائی کو سوشل میڈیا پر تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

پوکیمون گو کو ابھی تک انڈیا میں سرکاری طور پر جاری نہیں کیا لیکن پھر بھی کئی لوگ مختلف طریقے اختیار کر ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں۔

ایک انڈین فون سے گیم تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کسی ایسے ملک کے آئی ٹیون اکاؤنٹ سے سائن اِن کرنا پڑتا ہے جہاں گیم جاری کی جا چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

کئی رپورٹوں کے مطابق مندروں کو اکثر جگہوں پر پوک سٹاپس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جہاں سے کھلاڑی گیم کے لیے ضروری مواد لے سکتے ہیں۔

پٹیشن میں پرائیویسی کی خلاف ورزی اور پوکیمون کی تلاش کرنے والے کھلاڑیوں کی جان کو ممکنہ خطرے کی بھی نشاندہی کی ہے۔

اس خبر کو سوشل میڈیا پر تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے اور پوکیمون گو انڈیا میں ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا ہے۔

سابق وزیر ششی تھرور سمیت کئی افراد نے پٹیشن کی غیر اہم نوعیت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سابق وزیر ششی تھرور نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ایسا صرف انڈیا ہی میں ممکن ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک مضحکہ خیز بات ہو گی اگر ایسے عامیانہ کیس ہمارے عدالتی نظام کو جام کر کے نہ رکھ دیں۔‘

متعلقہ عنوانات