افغانستان:’یرغمالیوں کی بازیابی کا آپریشن ناکام رہا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکی وزارت دفاع نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ ماہ افغانستان میں تعینات امریکی فوج کی جانب سے دو یرغمالیوں کی بازیاب کے لیے کیا گیا آپریشن ناکام رہا تھا۔

پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق اس آپریشن میں ’مخالف فورسز‘ کے کئی افراد مارے گئے تاہم جس جگہ آپریشن کیا گیا وہاں یرغمالی موجود نہیں تھے۔

آپریشن کے بارے میں مزید تفصیلات مہیا نہیں کی گئیں اور صرف اتنا بتایا گیا کہ اس آپریشن میں امریکی فوج کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔

امریکی میڈیا کے مطابق یہ آپریشن دو پروفیسروں کو بازیاب کروانے کے لیے کیا گیا تھا جن میں سے ایک امریکی اور دوسرا آسٹریلوی ہے۔

یہ دونوں پروفیسر امریکن یونیورسٹی میں کام کرتے تھے اور انھیں کابل سے اگست کے آغاز میں اغوا کیا گیا تھا۔

پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کُک نے بتایا کہ اس ریسکیو آپریشن کی اجازت امریکی صدر براک اوباما نے وزیر دفاع ایش کارٹر کی تجویز پر دی تھی۔

پیٹر کُک نے کہا ’بدقسمتی سے اس جگہ پر دونوں یرغمال پروفیسر موجود نہیں تھے۔‘

واضح رہے کہ سات اگست کو یہ دونوں پروفیسر یونیورسٹی سے اپنے گیسٹ ہاؤس جا رہے تھے جب افغان سکیورٹی فورسز کے یونیفارم میں ملبوس افراد نے ان کو اغوا کیا۔

ان کو یرغمال بنانے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں